سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 433 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 433

۴۳۳ تمہیں مشرک آدمی اچھا ہی نظر آئے۔“ اس آیت میں علاوہ اس کے کہ غلاموں کی پوزیشن کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔آزاد مسلمان مردوں اور عورتوں اور مسلمان لونڈیوں اور غلاموں کے باہمی شادیوں کے لئے دروازہ کھولا گیا ہے تا اس مساویانہ اور رشتہ دارانہ اختلاط کے نتیجہ میں غلاموں کی حالت جلد تر اصلاح پذیر ہو سکے۔چنانچہ منجملہ اور مصالح کے اس اصل کے ماتحت قرآن شریف میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ چار بیویوں کی انتہائی اور استثنائی حد کے پورا ہو چکنے کے بعد بھی اگر کسی مسلمان کے لئے کسی غلام عورت کے ساتھ رشتہ کرنے کا سوال پیدا ہوتو یہ چار کی حد بندی اس کے رستہ میں روک نہیں ہوگی اور وہ ہر حالت میں غلام عورت کے ساتھ رشتہ کر سکے گا۔تا کہ غلاموں کی حالت کی اصلاح کا رستہ کسی صورت میں بھی مسدود نہ ہونے پائے۔پھر فرماتا ہے: لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ا اوراے رسول! جو شادیاں تم اب تک کر چکے ہو یہ تمہاری تبلیغی تربیتی اور سیاسی ضروریات کے لئے کافی ہیں اس لئے ) اب اس کے بعد تمہیں کوئی اور شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ اگر کسی غلام عورت کے ساتھ رشتہ کا سوال پیدا ہو تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔“ یہ حکم بھی اسی غرض وغایت کا حامل ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور اس میں مزید غرض یہ شامل ہے کہ تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل سے مسلمانوں کے لئے ایک بہترین نمونہ قائم ہو جاوے۔پھر فرماتا ہے: وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ " یعنی اے مسلمان عورتو! تم اپنی زینت سوائے اپنے خاوندوں اور فلاں فلاں قریبی رشتہ داروں کے کسی پر ظاہر نہ کیا کرو۔یعنی پردے کی ان حدود کو مدنظر رکھو جو تمہارے لئے مقرر کی گئی ہیں۔البتہ تمہیں اپنے غلاموں سے پردہ نہیں کرنا چاہئے۔“ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلاموں کے متعلق اسلامی تعلیم کا اصل منشاء یہ تھا کہ مسلمان انہیں بالکل اپنے قریبی عزیزوں کی طرح سمجھیں حتی کہ مسلمان عورتیں اپنے غلاموں سے پردہ بھی نہ کریں تا کہ غیریت کا احساس بالکل جاتا رہے اور رشتہ داروں کا سا اختلاط پیدا ہو جائے۔: سورة النساء : ۴ سورۃ احزاب : ۵۳ ۳ : سورۃ نور : ۳۲