سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 386
۳۸۶ اور اس طرح گویا لشکر قریش اور مسلمانوں کا مقابلہ اچانک ہو گیا تھا۔اب اس تاریخی بیان کے مقابلہ میں ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے سوسورۃ انفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكْرِهُونَ ) يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُوْنَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللهُ إحْدَى الصَّابِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللهُ اَنْ يُحِقَّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ۔۔۔۔۔۔۔إِذْ أَنْتُمْ بِالْعَدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمُ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعُدِ وَلَكِنْ ليَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا۔۔۔۔۔وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ یعنی ”اے رسول! جس طرح نکالا تجھے تیرے رب نے تیرے گھر (مدینہ ) سے حق کے ساتھ اس حال میں کہ مومنوں میں سے بعض لوگ تیرے اس نکلنے کو ایک سخت مشکل اور نازک کام سمجھتے تھے۔اسی طرح نکلے تیرے دشمن تجھ سے لڑتے ہوئے حق کے رستہ میں بعد اس کے کہ وہ حق ان کے لئے ظاہر ہو چکا تھا۔( یعنی ان پر خدائی سنت کے مطابق اتمام حجت ہو چکا تھا ) اور حق کو قبول کرنا ان کے لئے ایسا تھا کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جار ہے ہوں اور موت بھی وہ جو سامنے نظر آرہی ہو۔اور یاد کرواے مسلمانو! جبکہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ وعدہ دیتا تھا کہ کفار کے دو گروہوں ( یعنی لشکر اور قافلہ ) میں سے کسی ایک گروہ پر ضرور تمہیں غلبہ حاصل ہوگا اور تمہارا حال یہ تھا کہ تم خواہش کر رہے تھے کہ ان گروہوں میں سے کم تکلیف اور کم مشقت والے گروہ ( یعنی قافلہ ) سے تمہارا سا منا ہو، لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ لشکر سے تمہارا مقابلہ کرا کے ) اپنی پیشگوئی کے مطابق حق کو قائم کر دے اور ان کفار مکہ کی جڑ کاٹ ڈالے یعنی ائمۃ الکفر بلاک کر دیے جائیں جبکہ تم بدر کی وادی کے ورلے کنارے پر پہنچے تھے اور قریش کا لشکر پر لے کنارے پر تھا ( یعنی تم ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو گئے تھے ) اور قافلہ تمہارے نیچے (مکہ کی طرف کو ) نکل چکا تھا ( یعنی قافلہ تو بیچ کر نکل گیا اور تم اچانک لشکر کے سامنے آگئے اور یہ سب کچھ خدائی تصرف کے ماتحت ہو اور نہ ) اگر لڑائی کے وقت کی تعیین تم پر ا : انفال : ۶ تا ۸ : انفال : ۴۳ ۳ : انفال : ۴۵