سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 384
۳۸۴ جنگ بدر کے متعلق ایک ابتدائی بحث اسی سال رمضان کے مہینہ میں بدر کی جنگ وقوع میں آئی۔یہ جنگ چونکہ کئی لحاظ سے تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس کے متعلق کسی قدر زیادہ تفصیلی نظر ڈالی جاوے۔بدر وہ پہلی باقاعدہ لڑائی ہے جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہوئی اور اس کے اثرات بھی ہر دو فریق کے لئے نہایت وسیع اور گہرے ثابت ہوئے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے اس کا نام ” یوم الفرقان ، یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کا دن رکھا ہے اور اس کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہی عذاب ہے جس کی خبر رسول خدا کے ذریعہ قریش مکہ کو ہجرت سے پہلے دی گئی تھی۔جنگ بدر کے تحریکی سبب کے متعلق زمانہ حال میں بعض محققین نے اختلاف کیا ہے اور اسی اختلاف کے متعلق ہم اس ابتدائی نوٹ میں کچھ بحث کرنا چاہتے ہیں۔عام مؤرخین کا یہ خیال ہے اور متقدمین میں سے تو اس بارہ میں کسی ایک مورخ نے بھی اختلاف نہیں کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے ایک تجارتی قافلہ کی اطلاع ملی تھی جو ابوسفیان کی سرداری میں شام کی طرف سے مکہ کو واپس آرہا تھا اور آپ اسی قافلہ کی روک تھام کے لئے مدینہ سے نکلے تھے لیکن جب آپ بدر کے قریب پہنچے تو اس وقت آپ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا ایک بڑ الشکر مکہ سے آیا ہے اور پھر قافلہ تو بچ کر نکل گیا اور قریش کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کی مٹھ بھیڑ ہوگئی۔دوسری طرف زمانہ حال میں جماعت احمدیہ قادیان کے ایک معزز فرد مولوی شیر علی صاحب بی۔اے نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت سال ۱۹۱۰ء میں اور ہندوستان کے مشہور مؤرخ مولانا شبلی نعمانی نے سیرۃ النبی میں بعض قرآنی آیات اور دیگر شہادات سے استدلال کر کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ مسلمانوں کو مدینہ میں ہی قریش کے لشکر کی اطلاع مل گئی تھی اور وہ مدینہ سے ہی لشکر کے مقابلہ کے خیال سے نکلے تھے اور قافلہ کے ارادے سے نکلنے کا خیال غلط ہے۔چنانچہ مولانا شبلی اپنی رائے کا خلاصہ یہ لکھتے ہیں کہ مدینہ میں یہ مشہور ہوا کہ قریش ایک جمعیت عظیم لے کر مدینہ آرہے ہیں۔آنحضرت 66 صلی اللہ علیہ وسلم نے مدافعت کا قصد کیا اور بدر کا معرکہ پیش آیا۔جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی خلق اور مسلمانوں کے قومی اخلاق پر روشنی پڑنے کا سوال ہے یہ اختلاف چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔صحابہ قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلے تھے یا لشکر قریش کے مقابلہ کی غرض سے یا یہ کہ انہیں دونوں کی اطلاع اور دونوں کا خیال تھا ان میں سے کوئی بھی مقصد ہو وہ ل : سیرۃ النبی جلد اصفحه ۳۱۸