سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 363
۳۶۳ اس کے جسم پر ہو وہ بھی مسلمان قاتل کا حق سمجھا جاتا تھا۔۴۲ - جو شمس خدا اور اس کے رسول کے لئے الگ کیا جا تا تھا اس میں کچھ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال اور اقرباء میں تقسیم فرما دیتے تھے اور بیشتر حصہ اس کا مسلمانوں کی اجتماعی دینی اور قومی اغراض میں صرف ہوتا تھا اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ مال غنیمت میں سے مجھے خمس کے علاوہ ایک اونٹ کے بال کے برابر بھی لینا حرام ہے - ۴۳ وَالْخُمْسُ مَرُدُودٌ عَلَيْكُمْ۔اور پھر یہ مس بھی تمہارے ہی کام آتا ہے۔لڑائی کے میدان میں عام طور پر نماز کی ادائیگی کا یہ طریق تھا کہ امام تو ایک ہی رہتا تھا لیکن فوج کے آدمی مختلف حصوں میں باری باری آکر امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے اور بقیہ فوج دشمن کے سامنے رہتی تھی اسے صلوٰۃ خوف کہتے ہیں اور مختلف حالات کے ماتحت اس کی مختلف صورتیں تھیں۔-۲۴ شروع شروع میں بعض صحابہ سفروں میں روزے رکھتے تھے اور بعض افطار کرتے تھے لیکن آخری ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جاوے اور فرمایا تھا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔جن صحابہ نے آپ کے اس حکم کو محض ایک سفارش سمجھ کر روزہ رکھ لیا ان کے متعلق آپ نے فرمایا: أُولئِكَ العُصَاةُ ـ یعنی یہ لوگ نافرمانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔۴۵- جاسوس کے قتل کا عرب میں دستور تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔۴۶۔دشمن کے قاصد کو روک لینے یا کسی قسم کا نقصان پہنچانے یا قتل کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سختی سے منع فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ بعض لوگ کفار کے قاصد ہو کر آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے گستاخانہ طریق سے باتیں کیں۔آپ نے فرمایا تم قاصد ہو اس لئے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ایک اور موقع پر ایک قاصد آیا اور آپ سے مل کر مسلمان ہوگیا اور پھر اس نے آپ سے عرض کیا کہ میں اب واپس جانا نہیں چاہتا۔آپ نے فرمایا۔میں بدعہدی کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔تم قاصد ہو تمہیں بہر حال واپس جانا چاہئے۔ہاں اگر پھر آنا چا ہو تو آ جانا۔چنانچہ وہ گیا اور کچھ عرصہ کے بعد موقع پا کر پھر واپس آ گیا۔تے ل : موطا امام مالک : ترمذی ابواب الصوم ے : ابوداؤد کتاب الجہاد