سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 331
٣٣١ بھاگ گیا اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کے قتل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا لیکن بالآخر جب وہ مسلمان ہوا تو اس کے ایمان واخلاص کا یہ حال تھا کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت میں اس نے باغیوں کے قلع قمع کرنے میں بے نظیر جان نثاریاں دکھلائیں اور جب ایک جنگ میں سخت گھمسان کا رن پڑا اور لوگ اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے تھے جیسے درانتی کے سامنے گھاس گرتا ہے اس وقت عکرمہ چند ساتھیوں کو لے کر عین قلب لشکر میں جا کو دا۔بعض لوگوں نے منع کیا کہ اس وقت لڑائی کی حالت سخت خطر ناک ہو رہی ہے اس طرح دشمن کی فوج میں گھسنا ٹھیک نہیں ہے لیکن عکرمہ نہ مانا اور یہی کہتا ہوا آگے بڑھتا گیا کہ ” میں لات و عزیٰ کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ہوں۔آج خدا کے رستے میں لڑتے ہوئے پیچھے نہیں رہوں گا۔لڑائی کے خاتمہ پر دیکھا گیا تو اس کی لاش نیزوں ، تلوار کے زخموں سے چھلنی تھی۔مالی قربانی کا یہ حال تھا کہ جب غنائم میں سے عکرمہ کو کوئی حصہ ملتا تو وہ اسے صدقہ و خیرات اور خدمت دین میں بے دریغ خرچ کر دیتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ میں خدا کے دین کے خلاف خرچ کیا کرتا تھا اب جب تک خدا کی راہ میں خرچ نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا ہے کیا یہ وہ لوگ ہیں جو تلوار کے ڈر سے مسلمان ہوئے تھے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کی ایک اور ثبوت اس بات کا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں خواہش جبر کے خیال کو جھٹلاتی ہے یہ ہے کہ آپ صلح کے خواہش مند رہتے تھے۔اور آپ کی یہ انتہائی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح یہ لڑائیاں بند ہو جاویں اور ملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش نے سخت سے سخت شرطیں پیش کیں۔حتی کہ اکثر مسلمانوں نے ان شرطوں کے قبول کرنے کو اپنے لئے موجب ذلت سمجھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کی پروا نہ کی اور جس طرح قریش نے کہا اسی طرح ان کی شرطیں مان کر صلح کر لی۔اب غور کا مقام ہے کہ اگر ان لڑائیوں میں آپ کی غرض یہ تھی کہ کفار کو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جاوے تو صورت حال یہ ہونی چاہئے تھی کہ قریش صلح پر زور دیتے اور ایسی نرم شرطیں پیش کرتے جنہیں مسلمان بخوشی مان لینے کو تیار ہو جاتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقابلہ میں سختی کا پہلو اختیار کرتے اور صلح کی تجویز کو آنوں بانوں سے ٹال کر جنگ چھیڑے رکھتے تا کہ کفار کے جبر مسلمان بنانے کا موقع میسر ل : اصابه واسدالغابہ واستيعاب