سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 203

٢٠٣ توسیع اشاعت قبائل کا دورہ حج کے ایام میں ہر دور دراز کے علاقہ سے مکہ میں لوگ جمع ہوتے تھے اور اشہر حرم میں عکاظ۔مجنہ اور ذوالمجاز میں بڑی بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع ہوتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدا سے ہی یہ طریق تھا کہ ان موقعوں سے فائدہ اُٹھاتے تھے اور مختلف قبائل عرب کی فرودگاہوں پر جا جا کر انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے یا مگر طبعاً اب تک آپ کی زیادہ توجہ قریش مکہ کی طرف تھی لیکن جن ایام میں قریش مکہ نے مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے ان کے ساتھ تعلقات قطع کر دیے اور ان کے ساتھ میل ملاپ بند ہو گیا تو ان دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر قبائل عرب کی طرف زیادہ توجہ شروع کی ؛ چنانچہ محصور ہونے کے زمانہ میں آپ آشہر حرم میں جب کہ سب طرف امن ہوتا تھا حج میں آنے والے قبائل کا خاص طور پر دورہ کیا کرتے تھے اور عکاظ وغیرہ کے اجتماعات میں بھی باقاعدہ جاتے اور اسلام کی تبلیغ فرماتے تھے لیکن قریش مکہ نے اس تبلیغ میں بھی روک تھام شروع کر دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قبائل کا مسلمان ہو جانا ان کے لیے قریباً قریباً ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ خود مکہ والوں کا اسلام لے آنا ؛ چنانچہ یہ قریش ہی کی مخالفت کا نتیجہ تھا کہ باوجود اس کے کہ آپ نے کئی دفعہ قبائل کا دورہ کیا اور ہر کیمپ میں جا جا کر اسلام کی دعوت دی لیکن کہیں بھی کامیابی کی امید نہ بندھی ہے طائف کا سفر جب محاصرہ اٹھ گیا اور آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حرکات وسکنات میں ایک گونه آزادی نصیب ہوئی تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ طائف میں جا کر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔طائف ایک مشہور مقام ہے جو مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس زمانہ میں قبیلہ بنو ثقیف سے آباد تھا۔کعبہ کی خصوصیت کو الگ رکھ کر طائف گویا مکہ کا ہم پلہ تھا اور اس میں بڑے بڑے صاحب اثر اور دولتمند لوگ آباد تھے اور طائف کی اس ا : ابن سعد ذكر دعا رسول الله عله قبائل العرب في المواسم : ابن سعد وطبری