سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 174 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 174

۱۷۴ اعتقاد ر کھتے ہو؟“ تو جعفر نے صاف عرض کیا کہ اے بادشاہ ! ہمارے اعتقاد کی رُو سے مسیح اللہ کا ایک بندہ ہے خدا نہیں ہے مگر وہ اس کا ایک بہت مقرب رسول ہے اور اس کے اُس کلام سے عالم ہستی میں آیا ہے جو اُس نے مریم پر ڈالا۔نجاشی نے فرش پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا۔”واللہ جو تم نے بیان کیا ہے میں اس سے میسیج کو اس تنکے کے برابر بھی بڑا نہیں سمجھتا۔نجاشی کے اس کلام پر دربار کے پادری سخت برہم ہوئے مگر نجاشی نے ان کی کچھ پروانہ کی اور قریش کا وفد بے نیل مرام واپس آ گیا۔اس کے بعد مہاجرین حبشہ ایک عرصہ تک بڑے امن کے ساتھ حبشہ میں رہے لیکن اُن میں سے اکثر تو ہجرت میثرب کے قریب مکہ میں واپس آگئے اور بعض حبشہ میں ہی مقیم رہے حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جنگ بدر اور اُحد اور احزاب تمام ہو چکیں تب یہ لوگ عرب میں واپس آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خیبر سے واپس آ رہے تھے۔ابتداء میں جبکہ ابھی اکثر مہاجرین حبشہ میں ہی تھے نجاشی کو اپنے ایک حریف سے جنگ پیش آ گئی۔اس پر صحابہ نے باہم مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ضرورت پیش آئے تو ہمیں بھی نجاشی کی امداد کرنی چاہئے چنانچہ انہوں نے زبیر ابن العوام کو دریائے نیل کے پارمیدانِ جنگ میں بھیجا کہ حالات سے اطلاع دیں اور پیچھے صحابہ خدا سے دعائیں کرتے رہے کہ نجاشی کو فتح ہو۔چنانچہ چند دن کے بعد حضرت زبیر نے واپس آکر اطلاع دی کہ نجاشی نے خدا کے فضل سے فتح پائی ہے۔یہ حضرت ابوبکر کا ہجرت کے ارادے سے نکلنا حدیث میں حضرت عائشہ سے روایت آتی ہے کہ جب مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو ایک دفعہ حضرت ابو بکر بھی ہجرت کے ارادہ سے مکہ سے نکلے مگر جب جنوب کی طرف جاتے ہوئے برک العماد میں پہنچے تو وہاں اتفاقاً قبیلہ قارہ کے رئیس ابن الدغنہ سے ملاقات ہوگئی۔ابن الدغنہ نے اس سفر کا سبب پوچھا تو حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ ” میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے، اس لیے میں نے اب ارادہ کیا ہے کہ اللہ کی زمین میں کہیں نکل جاؤں اور آزاد ہو کر اپنے رب کی عبادت کروں۔“ ابن الدغنہ نے کہا۔” تمہارے جیسے شخص کو تو نہ خود مکہ سے نکلنا چاہئے اور نہ لوگوں کو چاہئے کہ اسے نکالیں آؤ میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔واپس لوٹ چلو اور مکہ میں ہی اپنے رب کی عبادت کرو۔“ چنانچہ ابو بکر ان کے کہنے پر واپس چلے آئے۔مکہ پہنچ کر ابن الدغنہ نے رؤساء قریش کو ملامت کی اور کہا کہ : لے : ان جملہ حالات کے لیے دیکھو ابن ہشام وزرقانی وطبری وا بن سعد و بخاری