سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 169
۱۶۹ ہے۔لہذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے سورۃ نجم ختم کرنے پر سجدہ کیا تو قریش نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور اس طرح گویا صلح صفائی ہوگئی۔لیکن اس کے بعد جلد ہی جبرائیل آپ کے پاس آئے اور آپ کو اس غلطی سے آگاہ کیا اور شیطان کی القاء کردہ آیت کی جگہ وہ الہی کلام آپ پر وحی کیا جو اب قرآن شریف میں موجود ہے اور اس طرح قریش پھر ناراض ہو گئے لیکن چونکہ قریش کے ساتھ صلح صفائی ہو جانے کی خبر شائع ہو چکی تھی اس لئے پیشتر اس کے کہ اس کی تردید ہوتی وہ حبشہ بھی پہنچ گئی اور اس طرح بعض مہاجرین واپس آگئے۔یہ وہ قصہ ہے جو اس موقع پر بعض مؤرخین لکھتے ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قصہ سراسر جھوٹ ہے اور ہر معقول رنگ میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہے؛ چنانچہ کبار محدثین اور ائمہ حدیث مثلاً علامہ عینی۔قاضی عیاض اور علامہ نووی نے کھول کھول کر اور دلائل دے دے کر اس کو غلط اور موضوع ثابت کیا ہے۔چنانچہ علامہ عینی اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: لاصِحَةَ لَهُ نَقَلًا وَّلَا عَقَلَا یعنی دنقل اور عقل دونوں سے یہ قصہ غلط ثابت ہوتا ہے۔“ اور قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ : لَمْ يَخْرُجُهُ أَهْلُ الصَّحَةِ وَلَا رَوَاهُ ثِقَةٌ بِسَنَدٍ سَلِيْمٍ مَعَ ضُعْفِ نَقْلَتِهِ وَاضْطِرَابِ رِوَايَاتِهِ وَانْقِطَاعِ اَسَانِيدِهِ وَاَكْثَرُ الطُّرُقِ فِيهَا ضَعِيْفَةٌ وَاهِيَةٌ لَمْ يَسُنِدَ هَا أَحَدٌ مِنْهُمْ وَلَا رَفَعَهَا إِلَى صَاحِبٍ یعنی محتاط اور ثقہ لوگوں نے اس کی روایت نہیں کی، کیونکہ اس قصہ میں روایت کا اضطراب اور سند کی کمزوری بہت پائی جاتی ہے۔اور اس کے طریقے بہت کمزور اور بودے ہیں۔اور کسی راوی نے اس کی سند کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک یا آپ کے کسی صحابی تک نہیں پہنچایا۔“ اور علامہ نووی لکھتے ہیں : لا يَصِحُ فِيْهِ شَيْءٌ لَا مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ وَلَا مِنْ جِهَةِ الْعَقْلِ ا : عینی شرح بخاری ے : شفا قاضی عیاض بحوالہ زرقانی : نووی شرح مسلم