سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 125

۱۲۵ کے ساتھ رکھتے تھے اور اُن سے اپنے رشتہ داروں کی طرح سلوک کرتے تھے ؛ چنانچہ زید کے ساتھ بھی آپ کو محبت تھی اور زید چونکہ ایک وفادار دل رکھتا تھا، اس لئے اُسے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ارادت ہو گئی۔اُسی زمانہ میں زید کا باپ حارثہ اور اس کا چچا کعب زید کا پتہ لیتے لیتے مکہ آ نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے عاجزی سے استدعا کی کہ زید کورہا کر کے اُن کے ساتھ بھیج دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر زید جانا چا ہے تو میری طرف سے بخوشی اجازت ہے۔اس پر زید کو بلایا گیا اور آپ نے اُسے کہا۔” زید تم ان کو پہچانتے ہو کہ یہ کون ہیں؟“ اُس نے عرض کی۔”ہاں یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا ہیں۔آپ نے فرمایا۔” یہ تم کو لینے آئے ہیں۔اگر تم جانا چاہتے ہو تو میری طرف سے تم کو بخوشی اجازت ہے۔“ زید نے جواب دیا۔”میں آپ کو چھوڑ کر ہرگز نہیں جاؤں گا۔آپ میرے لیے میرے چا اور باپ سے بڑھ کر ہیں۔زید کا باپ غصہ میں بولا۔” ہیں ! تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟ زید نے کہا۔”ہاں! کیونکہ میں نے ان میں ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب زید کا یہ جواب سنا تو فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اور زید کو خانہ کعبہ کے پاس لے جا کر بلند آواز سے فرمایا۔”لوگو! گواہ رہو کہ آج سے میں زید کو آزاد کرتا اور اسے اپنا بیٹا بنا تا ہوں۔یہ میرا وارث ہوگا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔زید کے والد اور چچا نے یہ نظارہ دیکھا تو حیران رہ گئے اور زید کو بخوشی آپ کے پاس چھوڑ کر چلے گئے۔اُس دن سے زید بجائے زید بن حارثہ کے زید بن محمد کہلانے لگے۔لیکن ہجرت کے بعد جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم اترا کہ مُنہ بولا بیٹا بنانا جائز نہیں ہے تو زید کو پھر زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک اور پیار اس وفادار خادم کے ساتھ وہی رہا جو پہلے تھا، بلکہ دن بدن ترقی کرتا گیا اور زید کی وفات کے بعد زید کے لڑکے اسامہ بن زید سے بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ ام ایمن کے بطن سے تھے آپ کا وہی سلوک اور وہی پیار تھا۔زید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ تمام صحابہ میں سے صرف انہی کا نام قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔ل: اسد الغابه وابن ہشام ۳ : سورۃ احزاب: ۳۸ : سورۃ احزاب : ۶۰۵