سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 98
۹۸ رومی اور غسانی فرمانرواؤں سے قریش کے تجارتی قافلوں کے لیے حقوق حاصل کئے اور ہاشم کے دوسرے بھائیوں نے بھی کم و بیش اسی قسم کی خدمات انجام دیں۔چنانچہ قریش کے تجارتی قافلوں کی شام اور یمن وغیرہ کی طرف آمد و رفت ہاشم ہی کے زمانہ میں شروع ہوئی۔عموماً سردیوں میں تجارتی قافلے یمن کی طرف جاتے تھے اور گرمیوں میں شام کی طرف اور یہ دونوں سلسلے رِحْلَتُ الشّتاء اور رِحُلَتُ الصيف کہلاتے تھے یا امیہ کی رقابت باشم کی اس ترقی کو دیکھ کر ہاشم کے بھیجے امیہ بن عبد الشمس کے دل میں حسد پیدا ہوا اور اس نے ہاشم کا مقابلہ کرنا چاہا اور اسی کی طرح لوگوں میں سخاوت کر کے نام پیدا کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔بلکہ اس ناکامی سے اُلٹا قریش کے ہنسی مذاق کا نشانہ بن گیا۔آخر امیہ کو اتنا جوش آیا کہ اُس نے ہاشم کو کھلا چیلنج دے کر اپنے مقابلہ کے لئے بلایا۔ہاشم نے پہلے تو توجہ نہ کی ، لیکن آخر قریش کے کہنے سننے سے جو اس قسم کا تماشہ دیکھنے کے خواہشمند رہتے تھے ، ہاشم راضی ہو گیا اور شرط یہ ٹھہری کہ کوئی ثالث ان کی بڑائی کا فیصلہ کرے اور جو ہارے وہ دوسرے کو پچاس اونٹ دے۔اور دس سال کے لیے مکہ سے جلا وطن کیا جاوے۔ایک کا ہن جو قبیلہ خزاعہ سے تھا ثالث مقرر ہوا۔اُس نے اپنی کا ہنی زبان کے دو چار فقرے بول کر ہاشم کے حق میں فیصلہ دے دیا۔چنانچہ امیہ نے پچاس اونٹ ہاشم کے حوالے کئے اور مکہ سے نکل گیا اور دس سال تک شام وغیرہ میں پھرتا رہا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ یہ پہلی عداوت اور رقابت ہے جو بنو ہاشم اور بنوامیہ کے درمیان پیدا ہوئی۔ہاشم کے بعد عبدالمطلب بن ہاشم نے بھی اپنے زور کے ساتھ بنو ہاشم کو بنوامیہ پر غالب رکھا، لیکن عبدالمطلب کی وفات کے بعد ہاشم کے پوتوں میں کوئی اس جیسا صاحب اثر شخص نہ نکلا اس لیے بنوامیہ آہستہ آہستہ زور پکڑ گئے اور ہاشم کا خاندان غربت کی حالت میں مبتلا ہوکر کمزور ہو گیا۔ہاشم ایک دفعہ شام کی طرف بغرض تجارت نکلا تو راستہ میں میٹرب یعنی مدینہ بھی ٹھہرا۔وہاں ہاشم نے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کی ایک لڑکی سلمی سے شادی کی جس سے مدینہ میں ہی سلمی کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا۔مطلب ا: ابن سعد کچھ عرصہ کے بعد ہاشم کا باہر سفر میں ہی انتقال ہو گیا۔وفات کے وقت اُس کے چارلڑ کے تھے۔ابو صینی ، اسد ، فضلہ اور شیبہ۔مگر یہ چاروں چونکہ کم عمر تھے اور شیبہ تو مدینہ میں ہی تھا اس