سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 82
۸۲ یاد گار تھا جو حضرت اسمعیل کے بدلے میں قربان کیا گیا۔اور یہ دستور اسلام میں بھی قائم رہا۔مگر بنواسرائیل میں یہ رسم کہیں نظر نہیں آتی۔ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ قربانی کا ورثہ حضرت اسمعیل کی اولاد نے پایا ہے نہ کہ حضرت الحق کی اولاد نے۔اور ظاہر ہے کہ جس قوم نے یہ ورثہ پایا ہے اُسی کا جد اعلیٰ ذبیح سمجھا جانا چاہئے۔-4 " بائیل میں مقام ذبح یعنی قربان گاہ موریا کو ظاہر کیا گیا ہے، مگر یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ جگہ کہاں واقع ہے۔البتہ یہ ذکر ہے کہ یہ ایک پہاڑی جگہ ہے۔بائیبل میں اس جگہ کے متعلق تصریح نہ ہونے کی وجہ سے خود یہودی اور مسیحی علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ یہ جگہ کہاں اور کونسی ہے ، لیکن غور کریں تو مکہ کے پاس کی پہاڑی ”مروہ کے ساتھ یہ نام اور یہ تشریح بالکل منطبق ہو جاتی ہے۔اور نام میں جو خفیف سا فرق ہے وہ زبانوں کے اختلاف کی بنا پر قابل لحاظ نہیں ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ اب حج کے موقع پر قربانی مروہ کے پاس نہیں ہوتی بلکہ منی میں ہوتی ہے لیکن اول تو منیٰ اور مروہ ایک دوسرے کے پاس ہی ہیں۔دوسرے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اصل قربان گاہ مروہ ہی تھی ہے مگر بعد میں حاجیوں کی کثرت کی وجہ سے آبادی سے فاصلہ پر مقرر کر دی گئی۔ے۔بائیبل نے باوجود اس کے کہ ذیح حضرت اسحق کو بیان کیا ہے اس واقعہ کی تفصیل میں ایسی باتیں درج کی ہیں کہ وہ حضرت اسحق پر نہیں بلکہ حضرت اسماعیل پر صادق آتی ہیں۔قربانی کا ذکر بائیبل میں کتاب پیدائش " میں کیا گیا ہے ، مگر اس بیان میں جہاں الحق کو ذبیح کہا گیا ہے وہاں ساتھ ہی انہیں حضرت ابرا ہیم کا اکلوتا بیٹا کہ کر پکارا گیا ہے؛ حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ حضرت اسحق کسی صورت میں بھی حضرت ابراہیم کے اکلوتے بیٹے نہیں کہلا سکتے بلکہ اکلوتا کہلانے کا حق اگر کسی کے لئے سمجھا جاسکتا ہے تو وہ حضرت اسمعیل ہیں۔کیونکہ حضرت اسمعیل تیرہ چودہ سال کی عمر تک حقیقۂ حضرت ابراہیم کے اکلوتے بیٹے تھے۔مگر حضرت الحق کو کبھی بھی یہ پوزیشن حاصل نہیں ہوئی۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء بائیل میں بھی اسمعیل کو ہی ذبیح بیان کیا گیا تھا مگر بعد میں قومی رقابت کے جذبات سے متاثر ہوکر یہودی علماء نے اس نام کو بدل کر اسحاق کر دیا مگر تفصیلات میں بعض ایسی باتیں باقی رہ گئیں جو اس تحریف کو بے نقاب کر رہی ہیں۔اسی طرح بائیبل کے اس بیان میں یہ مذکور ہے کہ بیٹے کے ذبح سے روک دینے کے بعد خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے فرمایا کہ تو نے میرے رستے میں قربانی کے لیے اپنا اکلوتا بیٹا دریغ نہ رکھا اب میں تیری اولاد میں بہت ل : پیدائش باب ۲۲ آیت ۲ : موطا امام مالک : پیدائش باب ۲۲