سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 81
ΔΙ کی بشارت دی گئی۔اب جب شروع سے ہی حضرت الحق کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب کی بشارت بھی موجود تھی تو یہ کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم اسحاق کو جسمانی طور پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے جب کہ وہ جانتے تھے کہ اس کی زندگی کم از کم اس وقت تک مقدر ہے کہ اس کے گھر ایک لڑکا پیدا ہو۔۳۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اَنَا ابْنُ النَّبِيُحَيْنِ یعنی میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں کا یعنی ایک حضرت اسمعیل اور دوسرے عبد اللہ بن عبدالمطلب جنہیں آپ کے دادا نے ایک نذر کے نتیجہ میں قربان کرنا چاہا تھا اور وہ اس کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اس حدیث سے کم از کم اس قدرضرور ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محقق بات یہی تھی کہ ذیح حضرت اسمعیل تھے نہ کہ حضرت اسحاق۔۴ - بائیبل سے یہ ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم کی نسل میں یہ طریق رائج تھا کہ سب سے بڑا بچہ خدا کے لئے وقف کر دیا جاتا تھا۔اور چونکہ وقف بھی رُوحانی رنگ میں ذبح کا ہم معنے ہے، اس لئے حضرت ابرا ہیم کی نسل میں اس رسم کے پائے جانے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ذبیح حضرت اسمعیل تھے، کیونکہ وہ حضرت ابراہیم کے بڑے لڑکے تھے اور اسحق چھوٹے۔۵- ذبح کے متعلق قومی رنگ میں جتنی بھی رسوم تھیں وہ سب عربوں میں پائی جاتی تھیں اور اب بھی پائی جاتی ہیں اور اُن میں سے کوئی بھی بنو اسرائیل میں نہیں پائی جاتی جو اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ ذبیح حضرت اسمعیل تھے نہ کہ حضرت اسحق۔کیونکہ اگر ذبیح حضرت اسحق ہوتے تو یہ رسوم بنو اسمعیل کی بجائے بنواسرائیل میں پائی جانی چاہئے تھیں ، مگر معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔مثلاً بائیل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کی زندگی خدا کے لئے وقف ہو جو ذبح کا حقیقی مفہوم ہے وہ بال منڈوانے سے باز رہتے تھے۔مگر با وجود اس کے کہ بائیبل حضرت اسحق کے ذبیح ہونے کی مدعی ہے بنواسرائیل میں ایسی کوئی رسم نہیں پائی جاتی جو اس قربانی کی یاد گار سمجھی جاسکے۔لیکن اس کے بالمقابل عربوں میں جونسل اسمعیل میں سے ہونے کے دعویدار ہیں یہ رسم اسلام سے پہلے بھی پائی جاتی تھی اور اسلام کے بعد بھی جاری رہی۔چنانچہ حج کے موقع پر قربانی سے پہلے عربوں میں بال منڈانے یا کترانے سے باز رہنے کا دستور تھا جو اسلام میں بھی قائم رہا۔اسی طرح عربوں میں حج کے موقع پر جانوروں کی قربانی کا دستور تھا، جو اس مینڈھے کی قربانی کی : سورۃ ہود آیت: ۷۲ : خمیس جلد اصفحه ۱۰۸ سے : گنتی باب ۸ آیت ۱۷ واستثناء باب ۲۱ آیت ۱۵ تا ۱۷ : قاضیوں باب ۱۳ آیت ۴