سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 80

۸۰ روایات کو جن سے قریش کا حضرت اسمعیل کی اولاد میں سے ہونا ظاہر ہوتا ہے رڈ کرنا ہرگز انصاف پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ ذبیح کون تھا ؟ یعنی حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد میں سے کس کو خُدا کی راہ میں قربان کر دینے کا تہیہ کیا تھا۔سو اس کے متعلق پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ سوال کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔کیونکہ خواہ حضرت اسمعیل ذبیح ثابت ہوں یا اسحاق“ اس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعاوی پر یا اسلام کے کسی بنیادی اصول پر اثر نہیں پڑتا، مگر ایک تاریخی واقعہ کے لحاظ سے یہ بات ضرور قابل تحقیق ہے کہ ذبیح کون ہے؟ سوجیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ہماری رائے میں درست بات یہی ہے کہ ذیح حضرت اسمعیل تھے نہ کہ حضرت اسحاق۔بے شک بائیبل میں حضرت اسحاق کو ذبیح بیان کیا گیا ہے مگر اول تو بائیبل کی تاریخی حیثیت زیادہ مضبوط نہیں ہے۔دوسرے خود بائیبل ہی کے بیان سے یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا ہے اور اسلامی روایات کی شہادت مزید برآں ہے۔بہر حال اس مسئلہ میں ہمارے دلائل کا خلاصہ یہ ہے: 1- قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابراہیم نے ہم سے نیک اور صالح اولاد کی دُعا کی اور ہم نے اُسے ایک حلیم بیٹے کی بشارت دی۔اور جب وہ لڑکا کچھ بڑا ہوا تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے اس بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔اس پر ابراہیم اپنے اس بیٹے کو خدا کی راہ میں جسمانی طور پر قربان کر دینے کے لئے تیار ہو گئے اور بیٹے نے بھی خدائی حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، لیکن عین اس وقت جب کہ ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو گرا کر اس کے گلے پر چھری پھیر نے لگے خدائی فرشتہ نے انہیں اس فعل سے روک دیا۔۔الخ۔اور پھر اس کے بعد آگے چل کر آتا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو الحق کی بشارت دی۔اس بیان سے یہ بات صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ جس بیٹے کے ذبح کرنے کے لئے حضرت ابرا ہیم تیار ہوئے تھے وہ اسمعیل تھے نہ کہ اسحق۔کیونکہ قرآن شریف نے حضرت ابرا ہیم کے بڑے بیٹے کا ذکر کر کے اُس کے ساتھ ذبح کے واقعہ کو جوڑا ہے اور الحق کی پیدائش کا اس کے بعد ذکر کیا ہے؛ حالانکہ اگر حضرت الحق ذبیح ہوتے تو ذبیح کا ذکر اسحق کے ساتھ ملا کر ہونا چاہئے تھا نہ کہ حضرت ابرا ہیم کے بڑے بیٹے کے ساتھ۔-۲- قرآن شریف میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ خُدا نے جب حضرت ابراہیم کو حضرت اسحق کی بشارت دی تو اس کے ساتھ ہی اسحاق کے بیٹے یعقوب کی بھی بشارت دی یعنی ایک ہی وقت میں بیٹے اور پوتے دونوں : سورة صافات آیت ۱۱۳