سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 932 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 932

۹۳۲ اسی سال بعض اقوال کے مطابق جوا بھی حرام کیا گیا۔جوئے سے مراد ا تفاق کی کھیل ہے جس میں آمدنی کی بنیا د محنت یا ہنر پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ محض اتفاقی حالات پر مبنی ہوتی ہے اور چونکہ ایسی آمد میں وقت لگانا کیریکٹر کی تباہی کے علاوہ ملکی دولت کے توازن کو بھی بر باد کرنے کا موجب ہوتا ہے اس لئے اسلامی شریعت نے کمال دانش مندی کے ساتھ جو ابھی حرام قرار دیا ہے۔بیشک جلد باز انسان آزادی کی رو میں بہہ کر ہر قسم کی پابندی سے گھبراتا ہے لیکن اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ جو پابندیاں اسلام نے مسلمانوں پر لگائی ہیں وہ سراسر ان کے فائدہ کے لئے ہیں اور جوئے کی حرمت بھی اسی اصول کے ماتحت آتی ہے۔۔اسی سال شطرنج کی کھیل بھی ممنوع قرار دی گئی ہے کیونکہ ایک تو وہ بالعموم جوئے کا بہانہ بن جاتی ہے اور دوسرے اس میں اتنا انہماک پیدا ہوتا ہے کہ انسان زندگی کے مفید شعبوں کی طرف سے غافل ہو جاتا ہے۔اسلام یقیناً انسان کو جائز تفریحوں سے نہیں روکتا لیکن وہ اس بات سے ضرور روکتا ہے کہ انسان بالکل ہی شتر بے مہار بن کر جو چاہے کرتا پھرے اور اپنی زندگی کے مفید پہلوؤں کو تباہ کر لے اور چونکہ شطرنج کی کھیل اپنے اندر یہ دو بھاری نقصان کے پہلو رکھتی ہے یعنی ایک تو حد سے زیادہ انہماک جو شطرنج کے کھلاڑی کو گو یا دنیا و مافیہا سے غافل کر دیتا ہے اور دوسرے جوئے کی طرف میلان کیونکہ شطرنج بھی اکثر جوالگا کر کھیلا جاتا ہے اس لئے کمال حکمت سے اسلام نے اس کھیل سے روک دیا ہے۔دراصل اسلام کے فلسفہ شریعت میں صرف یہی بات داخل نہیں کہ جو چیز اپنی موجودہ صورت میں بُری ہے صرف اسی کو روکا جائے بلکہ یہ بات بھی داخل ہے کہ جو چیز خواہ وہ اپنی موجودہ صورت میں بُری نہ ہولیکن اگر وہ عام حالات میں انسان کو برائی کی طرف کھینچتی ہے اور اس کی یہ کشش غیر معمولی غلبہ رکھتی ہے تو اسے بھی روک دیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شراب وغیرہ کے متعلق اصولی طور پر فرماتے ہیں کہ: مَا اَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ یعنی ” جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرتی ہے اس کی تھوڑی مقدار بھی جائز نہیں۔“ سورة المائدة آیت ۹۱ نیز تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۳۰ : دیکھو کتاب لهذا حصہ سوم صفحه۷۹۰ مسلم کتاب ۴۱ حدیث ۰ او مسند احمد جلد ۲ صفحه ۶۵ او تاریخ خمیس حالات ۶ ہجری : مسند احمد بن حنبل