سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 931 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 931

۹۳۱ ۶ ہجری کے آخر میں لکھے گئے ہوں یا ۷ ہجری کے شروع میں بہر حال ان کے جوابات ۷ ہجری میں موصول ہوئے لیکن سارے متعلقہ حالات کو ایک جگہ بیان کرنے کے خیال سے میں نے ان خطوط کو ہجری کے واقعات میں درج کر دیا ہے۔↓ اسی سال میں یعنی ۶ ہجری کے دوران میں حضرت عائشہ کی والدہ ام رومان کی وفات ہوئی۔ام رومان جن کا نام زینب تھا۔پہلے عبداللہ بن منجرہ کے نکاح میں تھیں اور عبداللہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کے نکاح میں آئیں اور انہیں کے بطن سے عبدالرحمن بن ابو بکر اور حضرت عائشہ پیدا ہوئے یا اُم رومان ایک بہت نیک مگر سادہ مزاج عورت تھیں لیکن حضرت ابوبکر خلیفہ اول کی بیوی اور حضرت عائشہ کی ماں ہونے کی وجہ سے انہیں تاریخ اسلام میں جو امتیاز حاصل ہوا ہے وہ کسی بیان کا محتاج نہیں۔جب وہ قبر میں اتاری جارہی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے جنت کی کوئی حور دیکھنی ہو وہ ام رومان کو دیکھ لے۔۔یہ ایک بہت سادہ فقرہ ہے مگر اس سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جنت کی حوروں سے مراد ناز و ادا والی خوبصورت لڑکیاں نہیں تھیں جو عالم آخرت میں پیدا کی جا کر مومنوں کے ساتھ جنت میں رکھی جائیں گی بلکہ اس سے مراد دنیا کی ان پاک عورتوں کی روحیں ہیں جو جنت میں نیک لوگوں کی رفیق بنیں گی اور گو جنت میں ہر روح زندگی کے کمال کی حالت میں جوان بنا کر داخل کی جائے گی ہے مگر بہر حال اس سے ظاہر ہے کہ جنت کی جنسی رفاقت روحانی ہوگی نہ کہ جسمانی۔شراب کی حرمت بھی بعض لوگوں کے نزدیک ۶ ہجری میں ہوئی لیکن جیسا کہ ہم اس کتاب کے حصہ دوم میں بیان کر چکے ہیں ہمارے نزدیک اس کی حرمت میں غزوہ احد کے بعد ہجری کے آخر یا ۴ ہجری کے شروع میں ہوئی تھی۔اور یہی اکثر مسلمان محققین کا خیال ہے۔عقلاً بھی میرے نز دیک شراب جیسی گندی چیز جو کئی دوسری بدیوں کی ماں ہے اس کی حرمت میں ہجرت کے بعد زیادہ دیر نہیں لگی ہوگی۔شراب کی حرمت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی تاکید فرماتے تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ جس دسترخوان ( یا میز ) پر کوئی اور شخص شراب پی رہا ہو تمہیں اس دستر خوان پر بھی نہیں بیٹھنا چاہئے۔3 زرقانی جلد ۳ حالات حضرت عائشہؓ ہے : تاریخ میں حالات ۶ ہجری سے : تاریخ کبیر مصنفہ امام بخاریؒ بحوالہ زرقانی حالات حضرت عائشہ وابن سعد بحوالہ تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۳۹ ۴ : سورة الواقعه آیت ۲۳ ۲۴ و تر مندی ۵: ملاحظہ ہو کتاب طذ ا حصہ دوم صفحه ۳ ۵۷ تا صفحه ۵۷۵ ۱ : ابوداؤ د کتاب ۲۶ باب ۱۸ مسند احمد بن حنبل جلد اصفحه ۲۰