سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 930
۹۳۰ امداد کرے۔یہی وہ تشریح ہے جو علامہ زرقانی نے اس اختلاف کی کی ہے۔اوپر کے چھ تبلیغی خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معابعد بعض روایتوں کے مطابق ایک ہی دن میں اور دوسری روایتوں کے مطابق اوپر تلے لکھ کر بھجوائے تھے۔ان کے بعد جو خط لکھے گئے وہ کچھ وقفہ کے بعد لکھے گئے تھے اور ہم انہیں انشاء اللہ اپنے اپنے موقع پر بیان کریں گے۔اوپر کے چھ تبلیغی خطوط سے اس بات کے اندازہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ صلح ہوتے ہی اپنی پہلی فرصت میں کس درجہ مستعدی اور انہماک کے ساتھ تبلیغ کا فرض ادا کیا۔گویا آپ نے ایک آن واحد میں عرب کے چاروں اطراف میں اسلام کا بیج بکھیر دیا۔آپ کے اس فعل سے آپ کے اُس قول پر بھاری روشنی پڑتی ہے جو آپ نے ایک جنگی مہم سے واپسی پر فرمایا کہ: رَجَعْنَا مِنَ الْجَهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجَهَادِ الْأَكْبَرِ یعنی اب ہم تلوار کے چھوٹے جہاد سے تبلیغ و عبادت کے بڑے جہاد کی طرف لوٹ رہے ہیں۔“ حق یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین اور خدمت خلق میں خرچ ہوتا تھا اور حالات کے ماتحت جس جس قسم کے کام کی ضرورت پیش آتی تھی آپ کی روح اس کی طرف اس طرح لپکتی تھی جس طرح ایک محبت کے جذبات سے بھری ہوئی ماں اپنے کھوئے ہوئے بچے کے دوبارہ پانے پر اس کی طرف لپکتی ہے۔دنیا آپ کے لئے ایک سفر کی منزل سے زیادہ نہیں تھی اور اپنے آسمانی آقا کی خدمت اور اس کی عبادت اور اس میں ہو کر مخلوق کی محبت سب کچھ تھی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِ وَسَلِّمُ۔بعض متفرق واقعات جو تبلیغی خطوط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مختلف بادشاہوں کے نام لکھے گئے ان کے لکھے جانے کی تاریخ کے جوئے اور شطرنج کی ممانعت متعلق کسی قدر اختلاف ہے۔یعنی بعض روایات میں ان کی تاریخ ذوالحجہ ۶ ہجری بیان ہوئی ہے اور بعض میں محرم کے ہجری بیان ہوئی ہے مگر بہر حال اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ یہ چھ تبلیغی خط جو اوپر درج کئے گئے ہیں صلح حدیبیہ کے معابعد لکھے گئے اس لئے میں نے انہیں ۶ ہجری کے واقعات میں درج کر دیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اتنے دور دراز کے سفروں پر ایلیچیوں کا جانا اور پھر جواب لے کر وہاں سے واپس آنا لازماً کافی وقت چاہتا تھا اس لئے خواہ یہ خطوط لے دیکھو زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۶۶، ۳۶۷ بیہقی۔نیز دیکھوسورۃ الفرقان آیت ۵۳ ملاحظہ ہوا بن سعد وطبری و زرقانی