سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 929 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 929

۹۲۹ کا آخری فرمانروا تھا مسلمان ہو گیا اور حضرت عمر کے زمانہ میں مدینہ میں بھی آکر رہا۔مگر جب اس نے ایک غریب مسلمان کو تھپڑ مار دیا اور اس پر حضرت عمر نے اسے ڈانٹا کہ حقوق کے معاملہ میں سب مسلمان برابر ہیں تم سے اس کا بدلہ لیا جائے گا تو وہ زمانہ جاہلیت والے تکبر میں مبتلا ہوکر یہ کہتا ہوا بھاگ گیا کہ کیا میں اور ایک عام مسلمان برابر ہو سکتے ہیں؟ اور پھر اسی ارتداد کی حالت میں اس کی وفات ہوئی ہے رئیس یمامہ کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط چھا تبلیغی خط یمامہ کے رئیس ہورہ بن علی کے نام بھجوایا گیا۔اس خط کو لے جانے والے سلیط بن عمر وقرشی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خط میں ہوذہ کو اسلام کی دعوت دی مگر ہوذہ ایک متکبر مزاج انسان اور دنیا کا بندہ تھا اس نے بظاہر سلیط بن عمرو کی بڑی آؤ بھگت کی مگر جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ میرا عربوں میں بڑا مقام ہے ( غالباً مراد یہ تھی کہ میرا وجود آپ کے سلسلہ کے لئے بہت مفید ہو سکتا ہے ) آپ اگر میرے لئے وصیت کر جائیں کہ کچھ حکومت کا حصہ آپ کے بعد مجھے بھی مل جائے تو میں مسلمان ہو سکتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خط پڑھ کر غصہ سے فرمایا کہ ” ( یہ تو خدا کی چیز ہے) اگر ہوذہ مجھ سے کھجور کا ایک کچا دا نہ بھی مانگے تو میں اسے نہیں دوں گا۔‘ اس کے بعد ہو زہ بن علی فتح مکہ کے بعد کفر کی حالت ہی میں مر گیا۔اور جب آپ کو ہوذہ کی موت کی اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یمامہ کے علاقہ میں عنقریب ایک جھوٹا نبی پیدا ہوگا جو میری وفات کے بعد قتل کیا جائے گا۔کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ا سے کون قتل کرے گا ؟ آپ نے فرمایا۔تم اور تمہارے ساتھی اور کون ؟ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی مسلیمہ کذاب کے ظہور میں پوری ہوئی جو مسلمانوں کے خلاف بعض خونریز لڑائیاں لڑنے کے بعد حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں ہلاک ہوا۔بعض روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کی طرف سلیط بن عمرو کوبھجواتے ہوئے ان کے سپر د دو تبلیغی خط کئے تھے۔ایک ہوذہ کے نام اور دوسرا ثمامہ بن اثال کے نام۔مگر یہ درست نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ اسی کتاب میں دوسری جگہ بیان کیا جا چکا ہے۔ثمامہ اس سے پہلے ایک سریہ میں قید ہو کر مدینہ میں مسلمان ہو چکے تھے۔پس اگر اس موقع پر شمامہ کو کوئی خط لکھا گیا تو یقیناً وہ تبلیغ کا خط نہیں ہوگا بلکہ اس تحریک کے لئے ہوگا کہ وہ آپ کے خط کو ہوزہ تک پہنچانے اور اسے تبلیغ کرنے میں سلیط بن عمرو کی ل : تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۴۳، ۶۷ زرقانی جلد۳ و تاریخ خمیس جلد ۲