سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 928 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 928

۹۲۸ بہت بھاری اخلاقی نکتہ ہے جس سے دنیا کی قومیں سبق حاصل کر سکتی ہیں۔رئیس غسان کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پانچواں تبلیغی خط ریاست غنستان کے فرمانروا حارث بن ابی شہر کے نام لکھا گیا۔یہ وہی حارث ہے جس کا ذکر قیصر والے خط کے تعلق میں بھی آچکا ہے۔غسان کی ریاست عرب کے ساتھ متصل جانب شمال واقع تھی اور اس کا رئیس قیصر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط اپنے صحابی شجاع بن وہب کے ہاتھ روانہ فرمایا اور آپ نے اپنے اس خط میں حارث کو اسلام کی دعوت دی اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر آپ اسلام قبول کریں گے تو آپ کی حکومت کو لمبی زندگی حاصل ہوگی۔حارث اس وقت قیصر کی فتح کے جشن کے لئے تیاری کر رہا تھا۔حارث سے ملنے سے پہلے شجاع بن وہب اس کے دربان یعنی مہتم ملاقات سے ملے۔وہ ایک اچھا آدمی تھا اور اس نے شجاع کی زبانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر فی الجملہ ان کی تصدیق کی مگر شجاع کو بتایا کہ اسے حارث سے چنداں امید نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ وہ قیصر سے ڈرتا ہے اور اس کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرے گا۔چند دن کے انتظار کے بعد شجاع بن وہب کو رئیس غسان کے دربار میں رسائی حاصل ہوئی اور انہوں نے اس کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔حارث نے خط پڑھ کر غصہ میں پھینک دیا اور کہنے لگا۔مجھ سے میرا ملک چھینٹے کی کون طاقت رکھتا ہے۔بلکہ میں خود اس مدعی کے خلاف فوج کشی کروں گا اور اگر مجھے یمن تک بھی جانا پڑے تو اسے پکڑ کر لاؤں گا اور اس نے اپنے سواروں کے دستے کو تیاری کا حکم دے دیا۔اور دوسری طرف قیصر کو خط لکھا کہ مجھے حجاز کے مدعی نے اس قسم کا خط لکھا ہے اور میں اس کے خلاف فوج کشی کرنے لگا ہوں۔اس خط کا جواب قیصر نے یہ دیا کہ فوج کشی نہ کرو اور مجھے آکر دربار کی شرکت کے لئے ایلیا یعنی بیت المقدس میں ملو۔اس کے بعد ایلیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر دحیہ کلبی کے ساتھ جو گزری اس کا ذکر قیصر والے خط کے بیان میں کیا جا چکا ہے اور رئیس غسان والا قصہ یہیں ختم ہو گیا اور وہ مسلمان نہیں ہوا نے البتہ حدیث اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ مدینہ میں ایک عرصہ تک اس بات کا خوف رہا کہ غسانی قبائل مسلمانوں کے خلاف کب حملہ کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ بعد حارث بن ابی شمر کا جانشین جبلہ بن ایہم جوریاست غسان زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۵۷ و تاریخ خمیس جلد ۲ صفحه ۴۳ : بخاری کتاب النکاح باب مَوْعِظَةُ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۶۶