سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 927
۹۲۷ ام حبیبہ جن کی اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی ہوئی وہ مکہ کے رئیس اعظم ابوسفیان بن حرب کی بیٹی اور امیر معاویہ کی بہن تھیں۔وہ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں اور ان کے خاوند عبیداللہ بن جحش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے جو حبشہ میں ہی وفات پاگئے۔ان کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب خیال کیا کہ اُم حبیبہ کو اپنے عقد میں لے لیں۔جس میں غالباً یہ دوہری غرض تھی کہ ایک تو اس طرح شاید ابوسفیان کو اسلام کی طرف مائل کیا جا سکے اور دوسرے تا ام حبیبہ کی جو آپ کے پھوپھی زاد بھائی کی بیوہ تھیں دلداری ہو جائے۔ام حبیبہ جن کا نام رملہ تھا ۴۴ ہجری میں فوت ہوئیں۔نکاح پڑھنے سے پہلے نجاشی نے ام حبیبہ کو پیغام بھیج کر ان کی باقاعدہ اجازت لی اور پھر ان کی طرف سے ان کے ایک قریبی عزیز خالد بن سعید نے ولی بن کر چارسو دینار پر نکاح منظور کیا۔اگر اس موقع پر اسلام کے مسئلہ تعداد از دواج پر بحث دیکھنی ہو تو کتاب هذا حصہ دوم صفحہ ۴۸۹ تا ۵۰۴ ملاحظہ کئے جائیں۔گودوسرے نجاشی نے جو غالباً 9 ہجری میں تخت نشین ہوا اسلام قبول نہیں کیا لیکن چونکہ پہلا نجاشی مسلمان ہو گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ایک لمبے عرصہ تک حبشہ میں پناہ لے کر امن و عافیت کی زندگی پائی تھی اس لئے مسلمانوں نے اس ملک کے احسان کا یہ بدلہ دیا کہ جہاں دنیا کے چاروں کونوں میں ان کی فاتحانہ یلغار نے اسلام کی حکومت کا جھنڈا گاڑا وہاں انہوں نے حبشہ کے خلاف کبھی فوج کشی نہیں کی۔ان کی تلوار شمال میں بھی چلی اور جنوب میں بھی چلی اور پھر مشرق میں بھی چلی اور مغرب میں بھی چلی اور چین اور راس کماری کی حد سے لے کر مراکش اور سپین کے آخری کناروں تک مسلمانوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے روئے زمین کو ہلا دیا اور قیصر و کسریٰ جیسے عظیم الشان بادشاہ ان کے سامنے ریت کے تو دوں کی طرح گر کر پیوست خاک ہو گئے مگر فتح کے اس عالمگیر سیلاب میں بھی اگر مسلمانوں کی تلوار کسی ملک کے خلاف نہیں اٹھی تو وہ یہی حبشہ کی چھوٹی سی ریاست تھی۔اس کے چاروں طرف کا علاقہ مسلمانوں کے ماتحت آچکا تھا مگر جب وہ حبشہ کے قریب پہنچتے تھے تو ہمیشہ کتر کر ادھر ادھر سے گزر جاتے رہے اور اس کے خلاف کبھی انگلی تک نہیں اٹھائی۔اس کی تہ میں یہی اعلیٰ اخلاقی جذبہ کام کر رہا تھا کہ وہ اپنی انتہائی فتح کے زمانہ میں سینکڑوں سال گزر جانے کے بعد بھی اس چھوٹے سے احسان کو نہیں بھولنا چاہتے تھے جو حبشہ کے نجاشی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابیوں کو پناہ دے کر ابتدائی مسلمانوں پر کیا تھا۔یہ ایک ل : ابن سعد وزرقانی واسد الغابه