سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 79

۷۹ یعنی دشت فاران سے۔اس شہادت کے ہوتے ہوئے اگر فاران کسی اور جگہ کا بھی نام ہے تو بے شک ہو لیکن جب کہ حجاز میں بھی فاران کا ہونا ثابت ہے تو لا محالہ نسلِ اسمعیل سے تعلق رکھنے والا فاران یہی حجاز والا فاران سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی اور۔- بائیبل میں یہ بھی مذکور ہے کہ وطن سے نکلنے کے بعد حضرت اسمعیل کی نسل ” حویلہ سے لے کر شور تک، بستی تھی یے اور خود عیسائی محققین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ حویلیہ اور شور سے عرب کی مقابل کی اطراف مراد ہیں۔۔ے۔بائیل میں حضرت اسمعیل کے متعلق وحشی یعنی جنگل میں رہنے والے کے الفاظ بھی آتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات بطور پیشگوئی کے مذکور ہے کہ اسمعیل کے مکہ میں آباد ہونے کے ساتھ بالکل مطابقت کھاتی ہے۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ خود لفظ عرب کے معنے بھی جنگل اور ویران علاقہ کے ہیں۔جیسا کہ اعراب کے لفظ سے ظاہر ہے جس کے معنے جنگل -^ کے رہنے والوں کے ہیں ہے مسیحیوں کے مشہور امام پولوس یعنی سینٹ پال نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حضرت اسمعیل کی والدہ حضرت ہاجرہ کو عرب سے نسبت ہے۔- قیدار جو مسلمہ طور پر حضرت اسمعیل کی اولاد سے تھا۔اس کے متعلق بائیبل سے یہ بات ثابت ہے کہ اس کی نسل عرب میں آباد تھی۔،، ۱۰ اسی قیدار بن اسمعیل کے متعلق انسائیکلو پیڈیا میں یہ الفاظ درج ہیں کہ وہ اسمعیل کا بیٹا تھا، جس کی نسل عرب کے جنوبی حصہ میں آباد ہوئی۔“ مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت اسمعیل عرب میں آباد ہوئے اور عرب کی آبادی کا ایک حصہ انہی کی نسل سے ہے اور جب یہ ثابت ہے تو عرب کی ان زبر دست لی : پیدائش باب ۲۵ آیت ۱۸ : انسائیکلو پیڈیا بلی کا مطبوعہ لنڈن ۱۸۶۴ء بحوالہ ریویو آف ریلیجنز جلد۳۳ ۳ : پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۲ : تاج واقرب الموارد و غیره ه : گلتیوں باب ۴ آیت ۲۲ تا ۲۵ یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۱۸ ی انسائیکلو پیڈیا بلی کا مطبوعہ لنڈن ۱۸۶۲ ء بحوالہ ریویو آف ریجنز جلد ۳۳