سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 920
۹۲۰ کی گویا واحد اولا د تھی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ دونوں لڑکیاں مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئی تھیں۔جو خچر اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں آئی وہ سفید رنگ کی تھی اور اس کا نام دلدل تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اکثر سواری فرمایا کرتے تھے اور غزوہ حنین میں بھی یہی خچر آپ کے نیچے تھی۔یہ سوال کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ کوز وجہ کے طور پر اپنے عقد میں لیا یا کہ صرف ملک یمین کے رنگ میں اپنے عقد میں رکھا ایک اختلافی سوال ہے جس کی تفصیل میں ہمیں اس جگہ جانے کی ضرورت نہیں۔بہر حال دوباتیں قطعی طور پر یقینی ہیں۔ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ کو شروع سے ہی پردہ کرایا ہے اور پردہ کے متعلق ثابت ہے کہ وہ صرف آزاد عورتیں اور ازواج ہی کرتی تھیں۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے بعد ایک یہودی رئیس کی بیٹی صفیہ کے ساتھ عقد کیا تو صحابہ میں اختلاف ہوا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں یا کہ محض ملک یمین۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو صحابہ نے سمجھ لیا کہ وہ زوجہ ہیں نہ کہ ملک یمین۔دوسرے یہ بات بھی تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی ذاتی غلام نہیں رکھا بلکہ جو لونڈی یا غلام بھی آپ کے قبضہ میں آیا آپ نے اسے آزاد کر دیا۔اس لحاظ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ماریہ قبطیہ کو لونڈی کے طور پر اپنے پاس رکھنا بعید از قیاس اور نا قابل قبول ہے۔واللہ اعلم۔ویسے اگر لونڈیوں کے متعلق اسلامی تعلیم کا خلاصہ ملاحظہ کرنا ہو تو کتاب ھذا کے حصہ دوم کے صفحات ۴۷۲ تا ۴۷۸ مطالعہ کئے جائیں۔مقوقس والے خط کے متعلق ایک خاص بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وہ کئی سو سال پر دہ خفا میں مستور رہنے کے بعد قریباً ایک سو سال ہوا کہ اپنی اصلی صورت میں دریافت ہو چکا ہے اور ہم اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس متبرک خط کا فوٹو یعنی عکس درج کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔رسم خط میں کافی تبدیلی ہو جانے کے باوجود اس عکس کے اکثر الفاظ نظر غور کے ساتھ پڑھے جاسکتے ہیں اور وہ : زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۷۲ ابن سعد بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۷۲ بخاری بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۵۶ ، ۲۵۷ ۵ کتاب ھذا حصہ دوم : تاریخ الخمیس