سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 77
22 حضرت ابرا ہیم" چھری چلا دیتے ، مگر اُس وقت خدائی فرشتہ نے آواز دی کہ اے ابراہیم! تو نے اپنی طرف سے اپنی خواب کو پورا کر دیا۔اب اسمعیل کو چھوڑ اور اس کی جگہ ایک مینڈھا لے کر خُدا کے راستے میں قربان کر دے کہ ظاہر میں یہی اس کی علامت ہے لیکن خواب کا جو حقیقی منشاء ہے وہ اور طرح پورا ہوگا۔چنانچہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا اور اس کی یادگار میں مسلمانوں میں حج کے موقع پر قربانی کی رسم قائم ہوئی۔اس خواب کے حقیقی منشاء کے متعلق اختلاف ہے، لیکن ہمارے نزدیک صحیح معنے یہی ہیں کہ ذبح کرنے سے خدا کے رستے میں وقف کرنا مراد ہے جو گویا دنیوی لحاظ سے زندگی کا خاتمہ کر دینے کے مترادف ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اسمعیل" کو مکہ میں آباد کرنے کی غرض وغایت ہی یہ تھی کہ کعبتہ اللہ کی تعمیر ہو اور اس کی خدمت اور توحید کے قیام کے لئے حضرت اسمعیل کی زندگی وقف ہو جائے اور پھر جب مرور زمانہ سے بُت پرستی نے توحید پر غلبہ پالیا تو اس مقدس خواب کی تعبیر میں خُدا نے حضرت اسمعیل کی نسل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیدا کیا جنہوں نے اپنے حلقہ بگوشوں کے ساتھ تو حید کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں قربان کر دیا۔اور یہی وہ ذبح عظیم یعنی عظیم الشان قربانی ہے جس کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اسمعیل کی ظاہری قربانی کے بدلہ میں ایک عظیم الشان قربانی کو مقرر کر دیا اور حج کے موقع پر جانور قربان کرنے کی رسم بھی مسلمانوں میں اسی مقدس یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ہے کہ انہیں خدا کے رستے میں قربان ہونے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اس جگہ یہ ذکر حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کے متعلق بعض اعتراضات کا جواب ضروری ہے کہ بعض عیسائی مؤرخین کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت اسمعیل کے عرب میں آباد ہونے کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے اور اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسل اسمعیل میں سے ہونا بھی ان کے نزدیک غیر مسلم ہے۔نیز ان کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے جس بیٹے کو ذبح کرنا چاہا تھا وہ جیسا کہ بائیبل میں بیان ہوا ہے حضرت اسحاق تھے۔نہ کہ حضرت اسمعیل۔ان ہر دو اعتراضات کا جواب مختصر طور پر ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ : -- حضرت اسمعیل کا عرب میں آکر آباد ہونا اور قریش مکہ کا حضرت اسمعیل کی نسل میں سے قرآن شریف سورة صافات ۱۰۲ تا ۱۰۵ و تفسیر ابن جریر شرح سورة مذکور : سورة صافات : ۱۰۸ -1