سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 903
٩٠٣ متعلق بعض سوالات کرنا چاہتا ہوں جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔پس اگر ابوسفیان اپنے جواب میں کوئی بات غلط بیان کرے تو تم مجھے فوراً بتا دینا ( ابوسفیان کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگر مجھے یہ شرم نہ ہوتی کہ میرے ساتھی یہ محسوس کریں گے میں نے کوئی جھوٹ بولا ہے تو میں اس موقع پر ضرور کوئی نہ کوئی غلط بات کہہ جا تا مگر میں بچی سچی بات کہنے پر مجبور ہو گیا ) اس کے بعد قیصر نے ترجمان کے ذریعہ اپنے سوالات شروع کئے۔قیصر۔اس مدعی کا تمہاری قوم میں حسب نسب کیا ہے؟ ابوسفیان۔وہ ہم میں اچھے نسب کا ہے اور شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔قیصر۔کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی شخص نے اس قسم کا دعویٰ کیا ہے؟ ابوسفیان نہیں۔قیصر۔کیا اس دعوئی سے پہلے تم نے مدعی کے خلاف کبھی جھوٹ کا الزام لگتے سنا ہے؟ ندگی کے خلاف یہ ابوسفیان نہیں۔قیصر۔کیا اس کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ ابوسفیان نہیں۔قیصر۔کیا اس مدعی کو بڑے بڑے لوگ مان رہے ہیں یا کہ کمزور اور غریب مزاج لوگ؟ ابوسفیان۔کمزور اور غریب لوگ۔قیصر۔کیا اس کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں یا کم ہور ہے ہیں؟ ابوسفیان۔بڑھ رہے ہیں۔قیصر۔کیا ان میں سے کبھی کوئی شخص اس کے دین کو بُرا سمجھتے ہوئے مرتد ہوا ہے؟ ابوسفیان نہیں۔قیصر۔کیا یہ شخص کبھی اپنے عہد کو تو ڑتا ہے؟ ابوسفیان نہیں۔لیکن آج کل ہمارا اور اس کا ایک معاہدہ چل رہا ہے اس کے متعلق ہمیں ڈر ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ آگے چل کر کیا ہو گا۔(ابوسفیان کہتا ہے کہ مجھے اس موقع پر اس فقرہ کے سوا کوئی اور موقع نہیں مل سکا کہ میں اپنی طرف سے آپ کے خلاف کوئی بات لگا سکوں ) قیصر۔کیا کبھی اس کے ساتھ تمہاری کوئی جنگ ہوئی ہے؟ ابوسفیان۔ہاں جنگ ہوئی ہے۔