سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 899 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 899

۸۹۹ اس جنگ میں کسری کی فوجوں کو مسلسل فتح حاصل ہوتی گئی۔شام، مصر اور ایشیائے کو چک یکے بعد دیگرے تاراج کئے گئے اور خود قسطنطنیہ کا شہر بھی خطرہ میں پڑ گیا۔بالآخر ہر قل (شہنشاہ روم ) اپنی غفلت سے بیدار ہوا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہجرت از مکہ کے زمانہ میں وہ دشمن کی فوجوں کو ایشیائے کو چک کی قلعہ بندیوں سے پسپا کر رہا تھا۔اس جنگ کی دوسری مہم میں قیصر اپنی فاتح افواج کے ساتھ یلغار کرتا ہوا کسری کے علاقہ کے اندر گھس گیا۔166 اس جنگ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہمدردی اور دعا قیصر کے حق میں تھی۔مسیحیت ایک الہامی مذہب تھا جس کی اسلام کے ساتھ صلح ممکن تھی مگر ایران کے آتش پرست مشرک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خیالات سے کوئی نسبت نہیں رکھتے تھے۔بہر حال ابھی کسری کی فاتح فوجیں قیصر کے خلاف پیہم غلبہ پاتی جارہی تھیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قرآن کی تیسویں سورت ( سورۃ روم ) میں یہ حکیمانہ پیشگوئی بیان کی کہ غُلِبَتِ الرُّومُ لى فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ آلاية ( یعنی عنقریب روما کو غلبہ حاصل ہوگا ) اور جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں یہ پیشگوئی بعد کے واقعات کے مطابق ،، ٹھیک نکلی۔قیصر کی ان غیر معمولی فتوحات کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعہ کے ساتھ شروع ہوا اور مسلمانوں کو قیصر کی پہلی فتح کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ قریش مکہ کے خلاف بدر کے میدان میں نمایاں فتح حاصل کر کے مدینہ کو واپس لوٹے تھے۔۔اور کسری کے خلاف قیصر کو آخری اور فیصلہ کن فتح صلح حدیبیہ کے زمانہ کے قریب حاصل ہوئی۔سے اپنی اس غیر معمولی فتح کی خوشی اور شکرانہ میں قیصر نے حمص سے لے کر ایلیا ( یعنی یروشلم یا بیت المقدس) تک کا پیدل سفر کیا۔دراصل ہر قل کا یہ سفر ایک نذر کی ایفا میں تھا جو اس نے فتح حاصل ہونے کی صورت میں مانی ہوئی تھی چنانچہ وہ ایڈیسا ک سے لے کر یروشلم تک پیدل گیا جہاں حضرت مسیح ناصری کی اصلی صلیب لائف آف محمد مصنفه میور صفحه ۳۶۸ س ترمذی جلد۲ تفسیر سورة روم HIMS AR EMESA : لائف آف محمد مصنفه میور صفحه ۱۲۳،۱۲۲ لائف آف محمد مصنفہ میور صفحه ۳۶۸، ۳۶۹ بخاری جلد ۲ کتاب الجہاد صفحہ ۱۰۷ ك : EDESSA مگر غالباً یہ امیسا (EMESA) یعنی جمع ہے اور غلطی سے ایڈیسا لکھا گیا ہے جو ایک دوسرا شہر ہے۔