سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 892 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 892

۸۹۲ جھوٹے طور پر اسلام کا اقرار کرتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے: إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرُكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یعنی ” منافق لوگ جو زبان سے تو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کے دل میں کفر بھرا ہوتا ہے وہ آخرت میں دوزخ کی آگ کی سب سے سخت اور سب سے نیچے کی تہہ میں رکھے جائیں گے۔“ اسلام کا عالمگیر مشن بالآخر اسلام اس سوال کو لیتا ہے کہ گزشتہ نبیوں ( یعنی حضرت موسیٰ، حضرت عیسی اور کرشن علیہم السلام وغیرہ) کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن صرف اپنی قوم یعنی عربوں تک ہی محدود نہیں ہے اور نہ صرف کسی خاص زمانہ کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ دنیا کی ساری قوموں کے لئے ہے اور سارے زمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے مسلمانوں کو ساری قوموں کی طرف یکساں توجہ دینی چاہئے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ۚ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی اے نبی تو لوگوں سے کہہ دے کہ خدا نے مجھے تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ہاں وہی خدا جو اس کل کائنات یعنی آسمانوں اور زمین کا مالک و آقا ہے۔“ اور اس ہدایت کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عالمگیر مشن کے متعلق فرماتے ہیں : أعْطِيتُ خَمْسَالَمْ يُعْطَهُنَّ اَحَدٌ قَبْلِى نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِداً وَطُهُوراً وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثَ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَّبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً - وَفِي رِوَايَةٍ بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ یعنی مجھے پانچ ایسی باتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔(۱) مجھے ایک ماہ کی مسافت تک خدا داد رعب عطا کیا گیا ہے (۲) میرے لئے تمام زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنائی گئی ہے (۳) میرے لئے جنگوں میں حاصل شدہ مال غنیمت جائز قرار : سورۃ النساء : ۱۴۶ سورۃ الاعراف : ۱۵۹ بخاری کتاب التیم : مسند احمد جلد ۲