سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 891 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 891

۸۹۱ بجائے اس کے دل کی کھڑکیاں سچائی کے قبول کرنے کے لئے خود بخود کھلتی چلی جائیں۔چنانچہ فرماتا ہے: أدْعُ إلى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی ” اے خدا کے رسول اپنے رب کے رستہ کی طرف حکمت اور عمدہ طریق نصیحت کے رنگ میں لوگوں کو دعوت دو اور اگر کبھی بحث و مجادلہ کی صورت پیدا ہو جائے تو بحث بھی دلکش اور بہترین انداز میں کرو۔“ پھر اسی اصول کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر وا کراہ کا طریق کسی طرح جائز نہیں اور نہ جبر و تشدد کے نتیجہ میں سچا ایمان پیدا ہوسکتا ہے۔پس دلائل و براہین کے ساتھ سمجھا دینے کے بعد مخاطب کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ اگر وہ چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو انکار کر دے کیونکہ آزادانہ اقرار یا انکار کے بغیر کوئی شخص انعام یا سزا کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا۔چنانچہ فرماتا ہے: -1 لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى یعنی دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہو سکتا۔ہدایت اور گمراہی کھلی کھلی چیزیں ہیں اور ہر شخص خود فیصلہ کا حق رکھتا ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے: -r فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّلِمِينَ نَارًا - پس جو شخص چاہے ایمان لے آئے اور جو شخص چاہے انکار کر دے۔ہاں جولوگ انکار کر کے ظالم بنیں گے ان کے لئے آخرت میں ضرور آگ کا عذاب مقدر ہے۔“ پھر اسی لطیف مضمون کے دوسرے پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جبر کے نتیجہ میں پیدا شدہ ایمان قطعاً کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ایمان کہلانے کا حق دار ہی نہیں کیونکہ اس صورت میں انسان کی زبان پر کچھ اور ہوتا ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔اور انعام کا مستحق ہونا تو درکنار ایسے دور نے منافق دو ہرے عذاب کے سزاوار ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر کے جرم کے ساتھ جھوٹ اور دھو کے بازی کے جرم کا بھی اضافہ کر لیتے ہیں۔وہ کافر ہیں کیونکہ ان کے دل میں کفر ہوتا ہے اور وہ جھوٹے اور دھو کے باز ہیں کیونکہ وہ اپنے دل کے یقین کے خلاف مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے زبان سے ا : سورة النحل : ۱۲۶ : سورة البقره : ۲۵۷ ل : سورة الكهف : ۳۰