سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 887
۸۸۷ اب غور کرو کہ یہ کیسی عجیب و غریب اور کیسی لطیف مطابقت ہے کہ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اس کے جنگ کے زمانہ کی طاقت اس کے امن کے زمانہ کی طاقت کے مقابلہ پر بعینہ وہی حیثیت رکھنے والی ثابت ہوئی ہے جو ایک نبی اللہ کے مقابلہ میں عام مومن کی ہوا کرتی ہے اور یہ ایک بار یک روحانی نکتہ ہے جس سے کئی اہم مسائل پر اصولی روشنی پڑتی ہے مثلاً : -1 -٢ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی اصل روحانی طاقت امن کے زمانہ کی تبلیغ میں ہے نہ کہ جنگ کی معرکہ آرائی میں اور عقلاً بھی یہی ہونا چاہئے کیونکہ وہ پر امن تبلیغ جس میں دلائل و براہین اور آیات بینات کے ذریعہ اسلام کی خوبی اور برتری ثابت کی جائے یقیناً وہی اسلام کی اندرونی قوت کی علمبر دار ہے اور اس کے مقابل پر جنگ کا ماحول ایک محض خارجی چیز ہے جو صرف منکرین کی عداوت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اصل اندرونی طاقت جو گویا اسلام کے ذاتی اور مستقل جو ہر کا رنگ رکھتی ہے خارجی عنصر کے نتائج پر بہر حال غالب ہونی چاہئے۔پھر اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ خود اپنی روحانی طاقت اور اندرونی جاذبیت اور دلائل کے غلبہ سے پھیلا ہے۔۔اور پھر اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل ذاتی میلان امن وصلح کی طرف تھا نہ کہ جنگ کی طرف اور جنگ کی حالت صرف منکرین کی پیدا کی ہوئی چیز تھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبور داخل ہونا پڑا۔یہ وہ تین زبر دست نتائج ہیں جنہیں قبول کرنے کے لئے ہر عقل مند اور منصف مزاج انسان مجبور ہے اور ان کے ذریعہ اسلام کی ابتدائی تاریخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ وسوانح پر ایک ایسی اصولی روشنی پڑتی ہے کہ اس سے یہ سارا میدان ایک خاص قسم کے نور سے جگمگا اٹھتا ہے۔بیشک جہاد بالسیف بھی اسلامی تعلیم کا ایک ضروری حصہ ہے کیونکہ جو قوم یا حکومت اسلام کو بز ورمٹانے کے لئے تلوار اٹھاتی ہے یا اسلام کی اشاعت کو تلوار کے زور سے روکنا چاہتی ہے اس کے مقابلہ کے لئے اسلام بھی تلوار ہی اٹھانے کا حکم دیتا ہے۔اور نہ صرف تلوار اٹھانے کا حکم دیتا ہے بلکہ ہدایت فرماتا ہے کہ ایسے ظالم دشمن کے خلاف اس طرح ڈٹ کر لڑو کہ گویا تم ایک سیسہ پلائی ہوئی آہنی دیوار ہو۔اور اسے ایسی مار مارو کہ صرف وہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے آنے والے دوسرے دشمن بھی لرزہ براندم ہو کر منتشر ہو جائیں۔مگر ل : سورة الحج : ۴۰ : ۴۰ و ۴۱ : سورة الصف : ۵ : سورۃ الانفال : ۵۸