سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 882
۸۸۲ اگر مسلمان دو یا دو سے زیادہ علیحدہ علیحدہ ملکوں میں آباد ہوں یا جغرافیائی لحاظ سے ایک ملک میں رہتے ہوئے بھی ان کی تنظیم ایک دوسرے سے جدا گانہ ہوتو وہ ایک مشتر کہ امام اور مقتدا کی دینی اور روحانی قیادت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ علیحدہ سیاست قائم کر سکتے ہیں بلکہ اگر اس صورت میں ایک پارٹی امام کی روحانی اقتدا کے علاوہ امام کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اس کی سیاست میں منسلک ہو تو پھر بھی دوسری پارٹی امام کی دینی اور روحانی اقتدا میں ہونے کی باوجود اپنا علیحدہ سیاسی نظام رکھ سکتی ہے گویا اس صورت میں جہاں ایک پارٹی دینی اور سیاسی ہر دو لحاظ سے امام کے ساتھ ہوگی وہاں دوسری پارٹی دینی لحاظ سے تو امام کے ساتھ ہوگی مگر سیاست میں علیحدہ نظام رکھے گی۔یہ استدلال ابوبصیر کے واقعہ سے اس طرح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی اس شرط کو قبول کیا کہ اگر مکہ کا کوئی مسلمان مدینہ میں آئے تو آپ اسے مدینہ میں رکھ کر اپنی سیاست میں شامل نہیں کریں گے بلکہ واپس لوٹا دیں گے اور پھر اس شرط کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی ابو بصیر اور اس کی پارٹی کو ان کے مسلمان ہونے کے باوجود مدینہ کی سیاست سے خارج رکھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صلح کی اس شرط کو قبول کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ نے اس طریق کو جائز قرار دیا ہے کہ مختلف علاقوں کے مسلمان ایک دین پر قائم ہوتے ہوئے بلکہ ایک امام کے ماتحت ہوتے ہوئے بھی اپنی علیحدہ علیحدہ سیاست رکھ سکتے ہیں اور یہ ایک نہایت اہم استدلال ہے جو ابو بصیر کے واقعہ کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ہوتا ہے اور دراصل اسی قسم کے حالات کے پیش نظر قرآن شریف کی یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ: وَاِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِنْ بَغَتْ احْدُهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ : یعنی اگر مومنوں میں سے دو پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو پھر اگر صلح کے بعد ان میں سے کوئی پارٹی دوسری کے خلاف سینہ زوری اور سرکشی سے کام لے (اور شرائط کو توڑے تو پھر سب مل کر اس پارٹی کے خلاف لڑائی کرو جو سرکشی سے کام لے رہی ہو یہاں تک کہ وہ سیدھی ہو کر خدا کے فیصلہ کے سامنے جھک جائے۔پھر اگر وہ سینہ زوری اور سرکشی سے باز آ کر جھک جائے تو پھر ان دونوں پارٹیوں کے درمیان پورے عدل وانصاف کے ساتھ ل: سورة الحجرات : ١٠