سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 881
ΑΛΙ آگ بھڑ کا دے مگر شکر ہے کہ اسے مدینہ میں کوئی ایسا ساتھی میسر نہیں۔پس خواہ کوئی معنی لئے جائیں اس عبارت کا سیاق و سباق اور اس کے ابتدائی ٹکڑے اس بات کا کافی وشافی ثبوت ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا ابو بصیر کو ملامت کرنا تھا نہ کہ جنگ کے لئے اُبھارنا۔کیا اپنے کلام کو اس غصہ اور ملامت کے الفاظ سے شروع کرنے والا شخص کہ فلاں شخص کی ماں کے لئے خرابی ہو وہ تو جنگ کی آگ بھڑ کانے والا ہے۔اس کے معا بعد اس قسم کے الفاظ منہ پر لا سکتا ہے کہ ہاں ہاں جنگ کی آگ بھڑ کا ؤ ؟ آخر اعتراض کرنے کے شوق میں عقل کو تو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے ! پھر سب سے بڑی بات یہ دیکھنے والی ہے کہ خود ابو بصیر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ نے کیا اثر کیا اور اس نے آپ کا کیا مطلب سمجھا۔سو اس کے متعلق اسی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ : فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ یعنی ” جب ابو بصیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ سنے تو اس نے سمجھ لیا کہ آپ بہر حال اسے مکہ والوں کی طرف واپس لوٹا دیں گے۔جس پر وہ چپکے سے بھاگ کر دوسری طرف نکل گیا۔افسوس ! صد افسوس ! کہ جس شخص کو مخاطب کر کے یہ الفاظ کہے گئے وہ خود تو ان کا یہ مطلب سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اس فعل کو نا پسند کیا ہے اور آپ بہر حال اسے مکہ کی طرف واپس لوٹا دیں گے مگر ہمارے تیرہ سو سال بعد آنے والے مہربان یہ کہہ رہے ہیں کہ دراصل آپ نے ابو بصیر کو الگ پارٹی بنا کر جنگ کرنے کی انگیخت کی تھی۔تعصب کا ستیاناس ہو۔بے انصافی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔اسلامی سیاست اسلام کے دینی ابوبصیر والے واقعہ سے اسلامی اصول سیاست کے متعلق بھی ایک اہم استدلال ہوتا ہے یعنی یہ کہ خاص حالات میں بعض نظام سے علیحدہ بھی ہو سکتی ہے علاقوں کے مسلمانوں کی سیاست ان کے مشترکہ دینی نظام۔علیحدہ بھی ہو سکتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو اپنے ایسے سیاسی نظام میں جو خود ان کے اپنے اختیار میں ہو اسلامی اصولوں کے ترک کر دینے کا اختیار ہے۔کیونکہ بہر حال جو قوم بھی اسلام پر ایمان لاتی ہے اس کا فرض ہے کہ اپنی دینی اور دنیوی زندگی کو اسلام کی تعلیم کے مطابق بنائے۔پس میری مراد یہ نہیں کہ مسلمانوں کا کوئی حصہ اپنی سیاست میں دینی اصولوں کو ترک کر دینے کا حق رکھتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ بخاری کتاب الشروط