سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 74
۷۴ عظیم الشان برکات کا وارث بنایا اور حسب وعدہ ان دونوں کی نسل کو دُنیا میں ہر قسم کے انعام سے مالا مال کیا۔چنانچہ بنواسرائیل جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان اور حضرت مسیح ناصری جیسے عالی مرتبہ نبی پیدا ہوئے۔حضرت اسحاق کی اولاد سے ہیں۔مگر اس جگہ ہمارا تعلق بنو اسماعیل سے ہے جو عرب میں آباد ہوئے اور جن سے فخر اولین و آخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود با جود نکلا۔سکونت حجاز اور مکہ کی آبادی اسمعیل" ابھی بچہ ہی تھے کہ اُن کی سوتیلی ماں سارہ نے کسی بات پر ناراض ہو کر حضرت ابراہیم سے کہا کہ ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو گھر سے نکال دو۔حضرت ابرا ہیم کو طبعا اس قول پر بہت رنج پیدا ہوا۔مگر خدا تعالیٰ نے حضرت ابرا ہیم سے فرمایا کہ رنجیدہ مت ہو اور اس بات کو بُرا نہ جان بلکہ جیسے سارہ کہتی ہے ویسے ہی کر۔اسحاق بھی تیری اولاد ہے مگر مجھے ہاجرہ کے فرزند اسمعیل سے ایک قوم بنانا ہے۔چنانچہ اس الہی ارشاد کے ماتحت حضرت ابراہیم نے سینکڑوں میل کا سفر اختیار کر کے حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ ہاجرہ کو عرب کے علاقہ حجاز کے اندر وادی بکہ میں لا کر آباد کیا۔یہ وہ وادی ہے جہاں اب مکہ آباد ہے۔اُس وقت یہ ایک بالکل غیر آباد اور ویران وادی تھی۔اس وادی میں صفا اور مروہ کی گھاٹیوں کے پاس ان دو بے کس اور بے بس جانوں کو تھوڑے سے زاد کے ساتھ جنگل میں چھوڑ کر حضرت ابراہیم اپنے وطن کو واپس روانہ ہوئے۔حضرت ابراہیم کو واپس جاتے دیکھ کر حضرت ہاجرہ اُن کے پیچھے پیچھے آئیں اور نہایت درد آمیز الفاظ میں کہنے لگیں ”آپ کہاں جاتے ہیں اور ہم کو اس طرح کیوں اکیلا چھوڑ کر جارہے ہیں؟“ حضرت ابراہیم خاموشی کے ساتھ قدم بڑھاتے گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔آخر ہاجرہ نے کہا۔آپ کچھ تو بولیں ” کیا خُدا نے آپ سے ایسا فرمایا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا ”ہاں اور پھر خاموشی کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔اس پر ہاجرہ بولیں۔اگر اللہ کا حکم ہے، تو پھر آپ بے شک جائیں۔اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔“ یہ کہہ کر ہاجرہ واپس لوٹ آئیں یہ قرآن شریف میں اس واقعہ کا حضرت ابراہیم کے ان الفاظ میں ذکر آتا ہے: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْبِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمُ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ : پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۲ ،۱۳ و میس جلد اصفحه ۱۰۵ : ابراهیم : ۳۸ بخاری و تاریخ خمیس