سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 870 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 870

۸۷۰ ہے۔البتہ افریقہ وغیرہ کی اکثر وحشی اقوام اہل کتاب میں سے نہیں ہیں اور ان کے ساتھ رشتہ ہر صورت میں ممنوع ہے۔چونکہ اس مسئلہ میں کسی قدر مفصل بحث او پر گزرچکی ہے اس لئے اس جگہ اسی قدر مختصر نوٹ پر اکتفا کی جاتی ہے۔ابوبصیر کا واقعہ اور اس کے نتائج معاہدہ حدیبیہ کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ کی طرف آوے تو مدینہ والے اسے پناہ نہیں دیں گے بلکہ واپس لوٹا دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان اسلام سے منحرف ہو کر مکہ کا رخ کرے تو مکہ والے اسے واپس نہیں کریں گے۔بظاہر یہ شرط مسلمانوں کے لئے موجب ہتک سمجھی گئی تھی اور اسی لئے کئی مسلمان اس پر دل برداشتہ تھے۔حتی کہ حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر اور فہیم صحابی کو بھی اس وقت کی برق زدہ فضا میں اس شرط پر ناراضگی اور بے چینی پیدا ہوئی تھی مگر اس کے بعد جلد ہی ایسے حالات پیدا ہو گئے جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ دراصل یہ شرط قریش کے لئے کمزوری کا باعث اور مسلمانوں کی مضبوطی کا موجب تھی۔کیونکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں ہی فرما دیا تھا اگر کوئی مسلمان مدینہ سے منحرف ہو کر جائے گا تو وہ ایک گندہ عضو ہوگا جس کا کاٹا جانا ہی بہتر تھا لیکن اس کے مقابل پر اگر کوئی شخص سچے دل سے مسلمان ہو کر مکہ سے نکلے گا تو خواہ اسے مدینہ میں جگہ ملے یا نہ ملے وہ جہاں بھی رہے گا اسلام کی مضبوطی کا باعث ہوگا اور بالآخر اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ کھول دے گا۔اس نظریہ نے جلد ہی اپنی صداقت کو ثابت کر دیا۔کیونکہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک شخص ابو بصیر عتبہ بن اسید ثقفی جو مکہ کا رہنے والا تھا اور قبیلہ بنوزہرہ کا حلیف تھا مسلمان ہو کر اور مکہ والوں کی حراست سے بھاگ کر مدینہ پہنچا۔قریش مکہ نے اس کے پیچھے پیچھے اپنے دو آدمی بھجوائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ ابو بصیر کو معاہدہ کی شرائط کے مطابق ان کے حوالہ کر دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بصیر کو بلایا اور واپس چلے جانے کا حکم دیا۔ابوبصیر نے سامنے سے واویلا کیا کہ میں مسلمان ہوں اور یہ لوگ مجھے مکہ میں تنگ کریں گے اور اسلام سے منحرف ہو جانے کے لئے جبر سے کام لیں گے۔آپ نے فرمایا ”ہم معاہدہ کی وجہ سے معذور ہیں اور تمہیں یہاں نہیں رکھ سکتے اور اگر تم خدا کی رضا کی خاطر صبر سے کام لو گے تو خدا خود تمہارے لئے کوئی رستہ کھول دے گا مگر ہم مجبور ہیں اور کسی صورت میں معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔“ نا چا را بو بصیر ان لوگوں کے ل : مسلم بحوالہ زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۹۹