سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 869 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 869

۸۶۹ نیت اور اخلاص کو اچھی طرح پر کھا جاتا تھا۔پھر جو عورتیں نیک نیت اور مخلص ثابت ہوتی تھیں اور ان کی ہجرت میں کوئی دنیوی یا نفسانی غرض نہیں پائی جاتی تھی تو انہیں مدینہ میں رکھ لیا جاتا تھا اور اگر وہ شادی شدہ ہوتی تھیں تو ان کا مہران کے خاوندوں کو ادا کر دیا جاتا تھا۔اس کے بعد وہ مسلمانوں میں شادی کرنے کے لئے آزاد ہوتی تھیں۔مشرک عورتوں کو بھی آزاد کر دیا گیا جہاں ایک طرف مسلمان عورتوں کے لئے یہ خاص صورت تجویز کی گئی وہاں دوسری طرف اس موقع پر مشرک عورتوں کے متعلق بھی یہ خاص احکام جاری ہوئے کہ اگر کوئی مشرک عورت مسلمانوں کے نکاح میں ہو تو مسلمان اسے آزاد کر دیں اور آئندہ کے لئے یہ حکم نافذ کیا گیا کہ کوئی مشرک عورت کسی مسلمان مرد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔یہ احکام بھی قرآن شریف کے ذریعہ نازل ہوئے کیے اور ان آیات کے نزول کے بعد حضرت عمر اور بعض دوسرے صحابہ نے جن کے نکاح میں اس وقت تک بعض مشرک عورتیں تھیں اپنی مشرک بیویوں کو طلاق دے کر آزاد کر دیا۔کے اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام نے ہر غیر مسلم عورت کے ساتھ نکاح منع نہیں کیا بلکہ صرف مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح منع کیا ہے اور اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح جائز رکھا ہے۔ان احکام میں مصلحت یہ ہے کہ: اول : تو مشرک کا مذہب اسلام سے بعید ترین ہے اور دونوں کے درمیان کوئی اتصال کی کڑی نہیں ہے اور ایک مشرک عورت کے ساتھ نکاح میں یہ اندیشہ ہے کہ اس کی تربیت میں اولا د دین کے مبادی سے ہی بے بہرہ رہے۔دوسرے : ایک مشرک انسان کا کوئی ضابطہ اخلاق معین نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس کے ساتھ تعلقات کبھی بھی کسی معین اور مستحکم بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتے۔دوسری طرف خاص حالات میں تعلقات کی توسیع کی گنجائش کا رکھا جانا بھی ضروری تھا۔پس مشرک عورتوں سے نکاح حرام قرار دے کر باقی غیر مسلم عورتوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی۔دنیا کے موجودہ مذاہب میں سے عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ اہل کتاب کی اصطلاح میں داخل ہیں۔جن سے ایک مسلمان کا رشتہ ہوسکتا : بخاری حالات حدیبیه و باب تفسیر سورۃ الممتحنه و باب صلح الحدیبیہ نیز طبری حالات حدیبیه صفحه ۱۵۵۳ وابن جریر جلد ۲۸ صفحه ۴۴، ۴۵ و اسد الغا به حالات ام کلثوم قرآن شریف سورة الممتحنه : ۱۱ سے : بخاری کتاب التفسیر باب تفسیر سورة الممتحنه وتفسیر ابن کثیر وطبری : قرآن شریف سورة الممتحنه : ۱۱