سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 860 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 860

۸۶۰ اس کے بعد آپ نے لکھوایا کہ معاہدہ یہ ہے کہ اہل مکہ ہمیں بیت اللہ کے طواف سے نہیں روکیں گے۔سہیل فوراً بولا خدا کی قسم اس سال تو یہ ہر گز نہیں ہو سکے گا ورنہ عربوں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔ہاں اگلے سال آپ لوگ آکر طواف کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا یہی لکھو۔پھر سہیل نے اپنی طرف سے لکھایا کہ یہ بھی شرط ہوگی کہ اہل مکہ میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے ساتھ جا کر شامل نہیں ہو سکے (بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ ) ایک ذہین انسان کے لئے یہ بات ہر گز بعید از قیاس نہیں کہ وہ با وجود نا خواندہ ہونے کے مراسلات کے بار بار سامنے آنے کی وجہ سے کچھ حروف شناسی پیدا کرلے مگر ظاہر ہے کہ ایسی حروف شناسی کے باوجود ایسے شخص کے اُمیسی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا اور بہر حال وہ ناخواندہ ہی سمجھا جائے گا اور پھر جیسا کہ اس کتاب کے حصہ اول میں بیان کیا جا چکا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ بخاری وغیرہ کی روایت میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ” محمد بن عبد اللہ کے الفاظ لکھ دئے اس سے مرا دلکھا دینا ہو کیونکہ عام محاورہ میں بعض اوقات ” لکھنے“ کا لفظ لکھا دینے کے معنی میں بھی آجاتا ہے۔گویا اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ رسول اللہ کے الفاظ تو آپ نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹ دئے ( اور نشان دہی کے بعد ایک نا خواندہ شخص بھی آسانی کے ساتھ لکھے ہوئے الفاظ کاٹ سکتا ہے مگر اس کے بعد ” بن عبد اللہ کے الفاظ کا تب سے لکھوا دئے اور ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ کی اصل غیرت ” رسول اللہ کے الفاظ کاٹنے پر تھی نہ کہ ان کی جگہ "بن عبداللہ الفاظ لکھنے پر اور حدیث میں ان کی طرف الفاظ بھی یہی منسوب کئے گئے ہیں کہ خدا کی قسم میں رسول اللہ کے الفاظ نہیں کاٹوں گا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسی ہو نا قطعی طور پر ثابت ہے اور اسلام کا یہ ایک عظیم الشان علمی اور روحانی معجزہ ہے کہ خدا کے نور نے ایک ناخواندہ انسان کو ساری قوموں اور سارے زمانوں کا معلم اور استاد بنا دیا اور آج کے علمی زمانہ میں بھی جب کہ گویا علم کے دریا پھوٹ پھوٹ کر بہہ رہے ہیں ہر بچے متلاشی اور ہر بچے محقق کی نظر مذہب کے میدان میں ہر علمی الجھن کے موقع پر آپ کی طرف اٹھتی ہے اور وہ آپ کی ہدایت کے سوا کسی اور جگہ حقیقی تسلی نہیں پاتا۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَبَارِک وَسَلَّمْ پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ عربی زبان میں ایسی کے معنی نا خواندہ کے علاوہ معصوم اور پاک وصاف کے بھی ہوتے ہیں (تاج العروس) کیونکہ امی کا لفظ دراصل ام (یعنی ماں) سے نکلا ہوا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ گناہوں اور لغزشوں سے اس طرح بچا ہوا جس طرح ایک نوزائیدہ بچہ بچا ہوا ہوتا ہے اور یہ تعریف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہے۔: سورۃ الاعراف : : ۱۵۹،۱۵۸۔نیز دیکھئے سورۃ العنکبوت ۴۹ :