سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 859
۸۵۹ ٹو کا کہ یہ رسول اللہ کا لفظ ہم نہیں لکھنے دیں گے۔اگر ہم یہ بات مان لیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں تو پھر تو یہ سارا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے اور ہمیں آپ کو روکنے اور آپ کا مقابلہ کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔بس جس طرح ہمارے ہاں طریق ہے صرف یہ الفاظ لکھو کہ محمد بن عبد اللہ نے یہ معاہدہ کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپ لوگ مانیں نہ مانیں میں خدا کا رسول تو ہوں مگر چونکہ میں محمد بن عبداللہ بھی ہوں اس لئے چلو یہی سہی لکھو کہ "محمد بن عبداللہ نے یہ معاہدہ کیا ہے۔مگر اس اثناء میں آپ ،، کے کا تب حضرت علی معاہدہ کی تحریر میں ”محمد رسول اللہ کے الفاظ لکھ چکے تھے۔آپ نے حضرت علی سے فرما یا محمد رسول اللہ کے الفاظ مٹا دو اور ان کی جگہ محمد بن عبد اللہ کے الفاظ لکھ دو۔مگر اس وقت جوش کا عالم تھا حضرت علیؓ نے غیرت میں آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو آپ کے نام کے ساتھ سے رسول اللہ کے الفاظ کبھی نہیں مٹاؤں گا۔آپ نے ان کی از خود رفتہ حالت کو دیکھ کر فرمایا اچھا تم نہیں مٹاتے تو مجھے دو میں خود مٹا دیتا ہوں۔پھر آپ نے معاہدہ کا کاغذ (یا جو کچھ بھی وہ تھا ) ہاتھ میں لے کر اور حضرت علیؓ سے ان الفاظ کی جگہ پوچھ کر رسول اللہ کے الفاظ اپنے ہاتھ سے کاٹ دئے اور ان کی جگہ ابن عبد اللہ کے الفاظ لکھ دئے ہے ( حاشیہ میں نوٹ ملاحظہ فرمائیں) بخاری کتاب الشروط باب الشروط في الجهاد : بخاری کتاب المغازی باب عمره القضاء و كتاب الصلح و مسلم باب صلح الحديبيه نوٹ: آنحضرت کی امیت متن کی روایت میں جو بیان ہوا ہے کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ”محمد رسول اللہ کے الفاظ کاٹ کر ان کی جگہ محمد بن عبد اللہ کے الفاظ لکھ دئے۔اس پر بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال گزرسکتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی یعنی نا خواندہ تھے جیسا کہ خود قرآن شریف آپ کے متعلق اُمّی کا لفظ استعمال فرماتا ہے۔تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوا کہ آپ نے خود اپنے ہاتھ سے محمد رسول اللہ کے الفاظ کاٹے اور ان کی جگہ دوسرے الفاظ لکھ دئے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ یا تو آپ اُمی نہیں تھے اور یا اوپر والی روایت غلط ہے۔سو اس اعتراض کے متعلق کتاب ہذا کے حصہ اول میں ایک مختصر بحث گزر چکی ہے وہ ہمارے ناظرین کی تسلی کے لئے کافی ہونی چاہئے۔اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک آپ اُمّی تھے اور جیسا کہ قرآن اور حدیث اور تاریخ کے متحدہ بیان سے ثابت ہے آپ نے کبھی بھی درسی رنگ میں لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا مگر دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ اُمی اور نا خواندہ تھے۔چونکہ زمانہ نبوت میں آپ کے سامنے کثرت کے ساتھ مراسلات وغیرہ پیش ہوتے رہتے تھے اس لئے اس زمانہ میں آپ کو کچھ حروف شناسی ہوگئی ہوگی اور