سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 858
ΛΩΛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گئے یا سوائے مکر ز بن حفص کے جسے دیکھتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ اس شخص سے بداخلاقی اور غداری کی بو آتی ہے۔۔صلح کی گفتگو سہیل بن عمرو نے جو گفتگو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائی اور جس رنگ میں یہ اہم تاریخی معاہدہ ضبط تحریر میں آیا وہ اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دلچسپ ورق ہے جسے سب محمد ثین اور مؤرخین نے بڑے شوق اور تفصیل کے ساتھ سپرد قلم کیا ہے۔ہم اس جگہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق اس واقعہ کی موٹی موٹی تفاصیل ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔امام بخاری جو روایت کے لحاظ سے جملہ محدثین میں بلند ترین مقام رکھتے ہیں اس دلچسپ واقعہ کو مندرجہ ذیل صورت میں بیان کرتے ہیں۔جب سہیل بن عمر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا یہ سہیل آتا ہے اب خدا نے چاہا تو معاملہ سہل ہو جائے گا۔سے بہر حال سہیل آیا اور آتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا۔آؤ جی (اب لمبی بحث جانے دو ) ہم معاہدہ کے لئے تیار ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم بھی تیار ہیں۔اور اس ارشاد کے ساتھ ہی آپ نے اپنے سیکرٹری ( حضرت علی) کو بلوا لیا (اور چونکہ شرائط پر ایک عمومی بحث پہلے ہو چکی تھی اور تفاصیل نے ساتھ ساتھ طے پانا تھا) اس لئے کاتب کے آتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم سہیل صلح کے لئے تو تیار تھا مگر قریش کے حقوق کی حفاظت اور اہل مکہ کے اکرام کے لئے بھی بہت چوکس رہنا چاہتا تھا فوراً بولا یہ رحمن کا لفظ کیسا ہے ہم اسے نہیں جانتے۔جس طرح عرب لوگ ہمیشہ سے لکھتے آئے ہیں اس طرح لکھو یعنی بِاسْمِكَ اللهُمَّ دوسری طرف مسلمانوں کے لئے بھی قومی عزت اور مذہبی غیرت کا سوال تھا وہ بھی اس تبدیلی پر فوراً چونک پڑے اور کہنے لگے ہم تو ضرور بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو خاموش کرا دیا کہ نہیں نہیں اس میں کوئی حرج نہیں جس طرح سہیل کہتا ہے اسی طرح لکھ لو۔چنانچہ بِاسْمِكَ اللهُمَّ کے الفاظ لکھے گئے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ نے کیا ہے۔سہیل نے پھر لے دیکھو اسد الغابہ حالات بدیل و عروه و سهیل سے زرقانی جلد دوم صفحه ۱۹۳ وابن ہشام حالات حدیبیہ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا جاچکا ہے اس لفظ میں ادبی خوبی یہ تھی کہ لفظ سہیل اور سہل ایک ہی روٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ بعض اوقات ناموں سے نیک فال لے لیا کرتے تھے۔