سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 857
۸۵۷ فتح تھی۔نہ صرف اس لئے کہ اس نے آئندہ فتوحات کا دروازہ کھول دیا بلکہ اس لئے بھی کہ اس سے اسلام کی اس جاں فروشانہ روح کا جو دین محمدی کا گویا مرکزی نقطہ ہے ایک نہایت شاندار رنگ میں اظہار ہوا اور فدائیان اسلام نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ وہ اپنے رسول اور اس رسول کی لائی ہوئی صداقت کے لئے ہر میدان میں اور اس میدان کے ہر قدم پر موت وحیات کے سودے کے لئے تیار ہیں۔اسی لئے صحابہ کرام بیعت رضوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ بیعت موت کے عہد کی بیعت تھی یعنی اس عہد کی بیعت تھی کہ ہر مسلمان اسلام کی خاطر اور اسلام کی عزت کی خاطر اپنی جان پر کھیل جائے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا۔اور اس بیعت کا خاص پہلو یہ تھا کہ یہ عہد و پیمان صرف منہ کا ایک وقتی اقرار نہیں تھا جو عارضی جوش کی حالت میں کر دیا گیا ہو بلکہ دل کی گہرائیوں کی آواز تھی جس کے پیچھے مسلمانوں کی ساری طاقت ایک نقطہ واحد پر جمع تھی۔جب قریش کو اس بیعت کی اطلاع پہنچی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔اور نہ صرف حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو آزاد کر دیاہے بلکہ اپنے ایلچیوں کو بھی ہدایت دی کہ اب جس طرح بھی ہو مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیں مگر یہ شرط ضرور رکھی جائے کہ اس سال کی بجائے مسلمان آئندہ سال آکر عمرہ بجالائیں اور بہر حال اب واپس چلے جائیں۔دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابتدا سے یہ عہد کر چکے تھے۔میں اس موقع پر کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جو حرم الحرم اور بیت اللہ کے احترام کے خلاف ہو اور چونکہ آپ کو خدا نے یہ بشارت دے رکھی تھی کہ اس موقع پر قریش کے ساتھ مصالحت آئندہ کامیابیوں کا پیش خیمہ بننے والی ہے اس لئے گویا فریقین کے لحاظ سے یہ ماحول مصالحت کا ایک نہایت عمدہ ماحول تھا اور اسی ماحول میں سہیل بن عمر و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ اب معاملہ آسان ہوتا نظر آتا ہے۔یہ بات روایتوں سے واضح نہیں ہوتی کہ سهیل معین طور پر کس مرحلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا اور آیا اس کا آنا حضرت عثمان کے مکہ کی طرف جانے سے پہلے تھا یا کہ بعد۔اور اس بارے میں بعض روایات میں کسی قدر اختلاف و انتشار بھی پایا جاتا ہے مگر بہر حال یہ بات مسلم ہے کہ صلح کی وہ تحریر جس کا ہم اب ذکر کرنے لگے ہیں وہ سہیل بن عمرو کے ذریعہ ہی تکمیل کو پہنچی اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ قریش کے یہ جملہ سفرا جو یکے بعد دیگرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ سب کے سب بعد میں اسلام لاکر بخاری حالات صلح حدیبیہ زرقانی جلد ۲ صفحه ۲۰۸ ے : ابن ہشام وطبری