سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 843 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 843

۸۴۳ نہایت قلیل یعنی برائے نام تعداد کے سوا ان مسلمان کہلانے والے کمزور ایمان بدوی لوگوں نے جو مدینہ کے آس پاس آباد تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے سے احتراز کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ خواہ مسلمانوں کی نیت عمرہ کے سوا کچھ نہیں مگر قریش بہر حال مسلمانوں کو روکیں گے اور اس طرح مقابلہ کی صورت پیدا ہو جائے گی اور وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ یہ مقابلہ مکہ کے قریب اور مدینہ سے دور ہوگا اس لئے کوئی مسلمان بچ کر واپس نہیں آسکے گا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اوپر چودہ سو صحابیوں کی جمعیت کے ساتھ ذ وقعد ہ ۶ ہجری کے شروع میں پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے روانہ ہوئے۔اس سفر میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ آپ کے ہم رکاب تھیں اور مدینہ کا امیر نمیلہ بن عبداللہ کو اور امام الصلوۃ عبد اللہ بن ام مکتوم کو جو آنکھوں سے معذور تھے مقرر کیا گیا تھا۔جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے جو دینہ سے قریباً چھ میل کے فاصلہ پر مکہ کے رستہ پر واقع ہے۔تو آپ نے ٹھہرنے کا حکم دیا اور نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد قربانی کے اونٹوں کو جو تعداد میں ستر تھے نشان لگائے جانے کا ارشاد فرمایا اور صحابہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ حاجیوں کا مخصوص لباس جو اصطلاحاً احرام کہلاتا ہے پہن لیں اور آپ نے خود بھی احرام باندھ لیا ہے اور پھر قریش کے حالات کا علم حاصل کرنے کے لئے کہ آیا وہ کسی شرارت کا ارادہ تو نہیں رکھتے ، ایک خبر رساں بُسر بن سفیان نامی کو جو قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھتا تھا جو مکہ کے قرب میں آباد تھے آگے بھجوا کر آہستہ آہستہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور مزید احتیاط کے طور پر مسلمانوں کی بڑی جمعیت کے آگے آگے رہنے کے لئے عباد بن بشر کی کمان میں میں سواروں کا ایک دستہ بھی متعین فرمایا ہے جب آپ چند روز کے سفر کے بعد عسفان کے قریب پہنچے جو مکہ سے قریباً دو منزل کے رستہ پر واقع ہے تو آپ کے خبر رساں نے واپس آکر آپ کی خدمت میں اطلاع دی کہ قریش مکہ بہت جوش میں ہیں اور آپ کو روکنے کا پختہ عزم کئے ہوئے ہیں ہے حتی کہ ان میں سے بعض نے اپنے جوش اور وحشت کے اظہار کے لئے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور جنگ کا پختہ عزم کر کے بہر صورت مسلمانوں کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ قریش نے اپنے چند جانباز سواروں کا ایک دستہ خالد بن ولید کی کمان میں جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے آگے بھجوا دیا ہے اور یہ کہ یہ دستہ ل : سورة الفتح : ۱۳،۱۲ و تفسیر ابن کثیر متعلق آیات مذکورہ وابن ہشام سے : ابن سعد وابن ہشام وطبری وزرقانی ے: زرقانی ابن سعد ه: ابن ہشام ابن سعد و نمیس ے بخاری کتاب المغازی باب غزوة الحديبيه عن مسور ومروان