سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 70 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 70

کے بعد تک زندہ رہا مگر اسلام لانا اس کی قسمت میں نہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بڑے شوق سے اس کے مواحدانہ اشعار سُنے اور افسوس کے ساتھ فرمایا کہ امیہ مسلمان ہوتے ہوتے رہ گیا۔ایک اور شخص ورقہ بن نوفل تھا جو حضرت خدیجہ کا چچا زاد بھائی تھا اور مکہ میں رہتا تھا۔یہ بُت پرستی ترک کر کے بعد میں عیسائی ہو گیا تھا اور توریت و انجیل سے واقف تھا اور ان کا مطالعہ رکھتا تھا، مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر الہی فرشتہ نازل ہوا تو اس نے آپ کی تصدیق کی اور اسی تصدیق کی حالت میں فوت ہوا۔ایک شخص قس بن ساعدہ جو بکر بن وائل کے علاقہ میں رہتا تھا اور نہایت فصیح و بلیغ خطیب تھا چنانچہ بعثت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عکاظ کے میلے میں اس کا ایک خطبہ سنا تھا؛ چنانچہ ایک دفعہ آپ زمانہ نبوت میں فرماتے تھے کہ میں نے عکاظ میں قس بن ساعدہ کا ایک خطبہ سُنا تھا جو اس نے اونٹ پر چڑھے چڑھے دیا تھا اور آپ اس کی فصاحت کی تعریف فرماتے تھے۔قفس بھی شرک ترک کر کے توحید اختیار کر چکا تھا مگر اسلام سے پہلے ہی فوت ہو گیا کے ایک اور شخص عثمان بن حویرث تھا۔یہ مکہ کا رہنے والا تھا اور بت پرستی ترک کر کے دین حنیفی کا متبع ہو گیا تھا، لیکن بعد میں جب وہ قیصر روم کے دربار میں پہنچا تو عیسائی ہو گیا اور اسی مذہب پر اس کی وفات ہوئی۔یہ اسلام سے پہلے کی بات ہے۔غرض عرب میں اسلام سے پہلے مختلف مذاہب پائے جاتے تھے مگر باوجود ان مختلف مذاہب کے عرب کا اصل اور عام مذہب بُت پرستی تھا اور دوسرے لوگ اتنے بھی نہ تھے جیسے آٹے میں نمک اور وہ بھی سخت بگڑی ہوئی اور نا کامی کی حالت میں تھے جیسا کہ خود یورپین مؤرخین کو بھی اقرار ہے؛ چنانچہ قدیم مذہب عرب پر ریویو کرتے ہوئے سرولیم میور لکھتے ہیں : محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جوانی کے زمانہ میں عرب ایک بندھی لیک پر چلنے والے لوگ تھے اور ملک کی حالت ہر قسم کے تغیر واصلاح کے سخت مخالف تھی بلکہ اس کی تمام تاریخ میں شاید اس زمانہ سے بڑھ کر کوئی ایسا زمانہ نہیں گذرا کہ جب اس کی لے : شمائل ترمذی : سيرة حلبیہ جلد ۱ صفحه ۱۳۸ : بخاری س : اصابه ذکر قس بن ساعدہ قسم ۴