سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 831 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 831

۸۳۱ قلعوں کے آس پاس گھوم کر اور اسیر بن رزام کی مجلس گاہوں کے پاس پہنچ کرخود اسیر اور اس کے ساتھیوں کی زبانی یہ سن لیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ یہ تدبیریں کر رہے ہیں یا انہی دنوں میں ایک غیر مسلم شخص خارجہ بن حُسیل اتفاقا خیبر کی طرف سے مدینہ میں آیا اور اس نے بھی عبد اللہ بن رواحہ کی تصدیق کی اور کہا کہ میں اسیر کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لئے اپنے لاؤ لشکر کو جمع کر رہا تھا یے اس تصدیق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ کی امارت میں تمہیں صحابہ کی ایک پارٹی خیبر کی طرف روانہ فرمائی اور گوروایات سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پارٹی کو کیا ہدایات دے کر روانہ فرمایا تھا مگر اس گفت وشنید سے جو خیبر میں عبداللہ بن رواحہ اور اسیر بن رزام میں ہوئی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ اسیر کو مدینہ میں بلا کر اس کے ساتھ کوئی ایسا سمجھوتہ کیا جائے جس سے اس فتنہ انگیزی کا سلسلہ رک جائے اور ملک میں امن وامان کی صورت پیدا ہو۔اس خواہش میں آپ اس حد تک تیار تھے کہ اگر اسیر کو خیبر کے علاقہ کا امیر تک تسلیم کرنا پڑے تو تسلیم کر لیا جائے بشرطیکہ آئندہ کے لئے وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی فتنہ انگیزی سے باز آجائے۔جب عبداللہ بن رواحہ کی پارٹی خیبر میں پہنچی تو سب سے پہلے انہوں نے اسیر بن رزام سے دوران گفتگو کے لئے امن وامان کا عہد لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت خطرہ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ مسلمان سمجھتے تھے کہ کہیں اس گفت و شنید کے درمیان ہی اسیر کی طرف سے کوئی غداری کی صورت نہ پیدا ہو جائے۔اسیر نے اقرار کیا کہ ایسا نہیں ہوگا مگر ساتھ ہی اپنی شرم رکھنے کے لئے اسی قسم کا عہد عبد اللہ بن رواحہ سے بھی لیا۔مگر عبد اللہ بن رواحہ کی طرف سے اس معاملہ میں پہل ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اصل خطرہ کس کی طرف سے تھا۔بہر حال اس قول و قرار کے بعد عبداللہ بن رواحہ نے اُسیر سے گفتگو شروع کی جس کا مال یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ ایک امن وامان کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تا کہ یہ آپس کی جنگ رک جائے اور اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ تم خود مدینہ میں چل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بالمشافہ بات کرو۔اگر اس قسم کا معاہدہ ہو گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ رسول اللہ تمہارے ساتھ احسان ل: زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۷۰ زرقانی ابن ہشام جلد ۳ صفحه ۸۳٬۸۲ و ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۷ وسیرت حلبیہ جلد ۳ صفحه ۲۰۳ : ابن سعد جلد ۳ صفحه ۶۷