سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 827 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 827

۸۲۷ یعنی ” جب تم دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ خدا تمہاری دعا کو ضرور سنے گا اور یا درکھو کہ خدا ایسے دل سے نکلی ہوئی دعا ہر گز نہیں سنتا جو غافل اور بے پروا ہے۔“ دعا میں معین درخواست ہونی چاہئے پھر فرماتے ہیں: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمِ الْمَسْتَلَةَ وَلَا يَقُولَنَّ اللّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَاعْطِنِي فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ یعنی ” جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ اپنے سوال پر پختگی سے قائم ہو اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے کہ خدایا اگر تو پسند کرے تو میری اس دعا کو قبول کرلے کیونکہ خدا تو بہر حال اسی صورت میں قبول کرے گا کہ وہ اسے پسند کرے گا کیونکہ خدا سب کا حاکم ہے اور اس پر کسی کا دباؤ نہیں۔پس خواہ مخواہ مشروط یا ڈھیلے ڈھالے الفاظ کہہ کر اپنی دعا کے زور اور اپنے دل کی توجہ کو کمزور نہیں کرنا چاہئے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری ارشاد علم النفس کے ایک بھاری اور پختہ اصول پر مبنی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ دعا کے لئے توجہ اور انہماک اور استغراق کی کیفیت ضروری ہے اور یہ کیفیت اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے کہ جب دعا کرنے والا عزم اور یقین کے ساتھ ایک بات پر قائم ہو کر کسی چیز کا سوال کرے لیکن اگر وہ اس قسم کے الفاظ کہے کہ خدایا تو اگر چاہے تو میری یہ بات مان لے تو اس صورت میں اس کے اندر کبھی بھی وہ توجہ اور وہ استغراق کا رنگ پیدا نہیں ہو سکتا جو دعا کی قبولیت کے لئے ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بہر حال خدا انسان کے ماتحت تو ہے نہیں کہ ہر چیز جو انسان مانگے تو وہ ضرور اسے دے دے اور انکار کی طاقت نہ رکھتا ہو بلکہ وہ ایک حکمران خدا ہے اور اپنے مصالح کے ماتحت قبول کرنے اور رد کرنے ہر دو کی طاقت رکھتا ہے تو پھر انسان کیوں اپنے دل میں ایک شک کی حالت پیدا کر کے اس عزم اور توجہ اور استغراق کے مقام سے متزلزل ہو جو سوال میں کشش اور قوت جذب پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔خدا پر ہمیشہ نیک گمان رکھو اس اصول کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ : أَنَا عِندَظَنِّ عَبْدِي بِي صحیح بخاری کتاب الدعوات مسلم و بخاری