سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 826
۸۲۶ ثَلاثٍ إِمَّا يُعَجِلُ لَهُ دَعْوَتَهُ وَ إِمَّا أَنْ يَدْخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ وَ إِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا یعنی ” جب ایک مسلمان خدا سے کوئی دعا کرتا ہے تو بشرطیکہ وہ دعا کسی گناہ یا قطع رحمی پرمشتمل نہ ہو خدا اسے تین صورتوں میں سے کسی نہ کسی ایک صورت میں ضرور قبول فرمالیتا ہے یعنی (۱) یا تو وہ اسے اسی صورت میں اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے اور (۲) یا اسے آخرت کے لئے دعا کرنے والے کے واسطے ذخیرہ کر لیتا ہے اور (۳) یا (اگر اس کا قبول کرنا کسی سنت الہی یا مصلحت الہی کے خلاف ہو تو اس کی وجہ سے دعا کرنے والے سے کسی ملتی جلتی تکلیف یا بدی کو دور فرما دیتا ہے۔قبولیت دعا کی ان تین امکانی صورتوں کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی ؟ دعا میں جلد بازی مہلک ہے پھر فرماتے ہیں : إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لَاحَدِكُمْ مَالَمْ يُعَجِّلُ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي وَفِي رِوَايَةٍ مَالَمْ يَسْتَعْجِلُ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْإِسْتِعْجَالُ قَالَ يَقُوْلُ قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَابُ لِى فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعَاءَ یعنی ” دعا میں لیے صبر و استقلال کی ضرورت ہوتی ہے اور جو انسان جلد بازی سے کام نہیں لیتا وہ بالآخر اپنی دعا کا پھل ضرور حاصل کر لیتا ہے۔ہاں اگر وہ خود تھک کر یہ کہنے لگ جائے کہ میں نے تو بہت دعائیں کر کے دیکھ لیا ہے خدا نے میری کوئی نہیں سنی اور پھر وہ اس خیال کے ماتحت دعا چھوڑ بیٹھے تو ایسے شخص کی دعا واقعی قبول نہیں ہوتی۔“ غافل دل کی دعا قبول نہیں ہوتی پھر فرماتے ہیں: اُدْعُوا اللَّهَ وَ اَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءٌ مِّنْ قَلْبِ غَافِلٍ لَاهِ صحیح بخاری و مسند احمد جلد ثانی صفحه ۳۹۶ ترندی صحیح مسلم ترندی