سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 825
۸۲۵ دعائیں جو وہ نیک لوگوں کے خلاف مانگتے ہیں قبول نہیں ہوتیں بلکہ یونہی ادھر ادھر بھٹک کر ضائع ہو جاتی ہیں۔“ خدا اپنے وعدے اور سنت اور ایک اور جگہ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ - وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ کے خلاف دعا قبول نہیں کرتا تبدیلان تَبْدِيلًا یعنی اللہ تعالیٰ کسی صورت میں اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔اور تم خدا کی سنت میں 66 کبھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔“ پھر حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ _ یعنی ” دعا کو عبادت میں وہ درجہ حاصل ہے جو ایک ہڈی میں گودے کو حاصل ہوتا ہے جو گو یا ہڈی کی جان ہوتا ہے۔پس جس عبادت میں دعا کا عنصر شامل نہیں وہ ایک بے جان جسم سے بڑھ کر نہیں۔مومن کی دعا خدائی تقدیر کو بھی بدل سکتی ہے پھر فرماتے ہیں: لا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ یعنی ”لوگو! سن لو کہ دعا کو وہ طاقت حاصل ہے کہ وہ خدائی قضاء قد ر کو بھی بدل دیتی ہے یعنی اگر عام قانون وقدر کے ماتحت کسی فرد یا قوم پر کوئی مصیبت آنے والی ہوتی ہے تو دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص حکم سے اس مصیبت کو ٹال سکتا ہے۔‘ اس جگہ وہ لوگ غور کریں جو دعا کو محض عبادت خیال کرتے ہیں۔دعا کی قبولیت کی تین امکانی صورتیں پھر فرماتے ہیں: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيْهَا إِثْمٌ وَ لَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ل : سورة آل عمران : ۱۰ : ترمذی کتاب الدعوات سورة الاحزاب : ۶۳ ترمذی ابواب القدر