سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 69
۶۹ وغیرہ کے قائل نہ تھے۔قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔پھر عرب میں مجوسی بھی تھے جو آتش پرست اور ستارہ پرست تھے، مگر یہ لوگ خدا کی ہستی کے بھی قائل تھے اور عبادات کا بھی ان کے مذہب میں دستور تھا۔محققین کا خیال ہے کہ یہ مذہب جو اپنی اصل کے لحاظ سے ایرانی ہے درحقیقت الہامی مذاہب میں سے تھا مگر آہستہ آہستہ بگڑ گیا۔قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔موجودہ پارسی قوم اسی مذہب کی تابع ہے۔ایک مذہب صابی تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آتا ہے۔یہ مذہب مجوسیت اور یہودیت کا مجموعہ تھا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ عرب لوگ عام طور پر صابی کا لفظ ہر اس شخص پر بول دیتے تھے جس نے اپنا قدیم مذہب ترک کر کے توحید سے ملتا جلتا مذہب اختیار کر لیا ہو چنانچہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو بھی صابی کہہ کر پکارتے تھے۔عیسائیت عرب میں ظہور اسلام سے بہت عرصہ پہلے داخل ہو چکی تھی اور بعض قبائل اسے اختیار کر چکے تھے۔عرب میں نجران کا علاقہ اس مذہب کا بڑا مرکز تھا۔عرب کے یہودی ابتداء شام کی طرف سے آئے تھے اور پھر اس کی اتباع میں بعض دوسرے قبائل بھی یہودی بن گئے تھے۔یہود کے بڑے مرکز یثرب، خیبر اور تیما تھے۔ایک مذہب اور تھا جو حضرت ابرا ہیم کی طرف منسوب ہوتا تھا اور توحید کا مدعی تھا اس کا نام بعض لوگوں نے مذہب حنیفی رکھا ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوائل زمانہ میں اور اس سے کچھ پہلے بعض لوگ عرب کی انتہائی بت پرستی سے متنفر ہو کر اور آفتاب رسالت کی طلوع کرنے والی کرنوں کی پیشگی طور پر روشنی پاتے ہوئے اس مذہب کی طرف مائل تھے مگر ان کی تعداد تمام عرب میں چند نفوس سے زیادہ نہ تھی اور یہ لوگ قریباً سب کے سب مکہ اور اس کے آس پاس کے رہنے والے تھے۔حضرت عمر کے چچا زاد بھائی زید بن عمر و جن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی تعلقات تھے انہی لوگوں میں سے تھے، مگر بعثت نبوی سے پہلے ہی انکا انتقال ہو گیا۔سعید بن زید جو مشہور صحابی ہیں اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ، انہی کے صاحبزادے تھے۔زید کو بُت پرستی سے اس درجہ نفرت تھی کہ وہ بتوں کے چڑھاوے کا کھانا نہ کھاتے تھے اور لوگوں سے کہا کرتے تھے کہ یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہوئے طائف میں اُمیہ بن ابی صلت ایک مشہور شاعر اور معزز رئیس تھا وہ بھی بُت پرستی ترک کر کے مذہب حنیفی اختیار کر چکا تھا۔اُمیہ جنگ بدر ل : سورۃ حج آیت : ۱۸ : بخاری حدیث زید بن عمر و