سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 824 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 824

۸۲۴ یعنی اے رسول ! جب میرے بندے میرے متعلق تجھ سے پوچھیں تو تو انہیں کہہ دے کہ میں ( تم سب کے ) قریب ہوں۔میں پکارنے والے کی آواز کوسنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں (یعنی اسے قبول کرتا ہوں ) مگر میرے بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری آواز پر کان دھر میں اور مجھ پر سچا ایمان لائیں تا کہ وہ ( اپنی دعاؤں میں ) کامیابی کا منہ دیکھ سکیں۔“ پھر فرماتا ہے: اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ یعنی ”اے لوگو اپنے رب کو ہر حال میں پکارا کرو خواہ تم اضطراب اور گھبراہٹ کی حالت میں آہ و پکار کر رہے ہو یا ضبط اور صبر کی حالت میں خاموش ہو۔اور جانو کہ خدا حد اعتدال سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور تمہیں چاہئے کہ بعد اس کے کہ خدا نے دنیا میں اس کی اصلاح کا سامان پیدا کر دیا ہے، فساد نہ برپا کرو اور اپنے خدا کو خوف اور طمع ہر حالت میں پکارتے رہو ( یعنی خواہ تمہیں کسی مصیبت سے رہائی پانے کی خواہش ہو یا کسی بھلائی کے حاصل کرنے کی تمنا ہو ہر حالت میں دعا کرتے رہو ) یقیناً خدا کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں فرماتے ہیں: إِنَّ رَبَّكُمْ حَتِى كَرِيمٌ يَسْتَحْيِ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ أَنْ يَّرُدَّهُمَا صِفْرًا۔یعنی ”اے مسلمانو! تمہارا رب شرمیلا اور بخشش کرنے والا آقا ہے۔وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ جب کوئی بندہ اس کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے تو وہ اس کے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔اللہ اللہ کیا شان دلربائی ہے۔کافروں کی دعائیں مگر اس کے مقابل پر کافروں کی دعاؤں کے متعلق فرماتا ہے: وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَللٍ : یعنی ” بے شک خدا اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے مگر اس سے یہ نہ سمجھو کہ ہر شخص کی ہر دعا ضرور قبول ہوتی ہے بلکہ خدا کا یہ قانون ہے کہ ناشکر گزار لوگوں کی دعائیں یا کافروں کی سورۃ الاعراف : ۵۷،۵۶ : ترندی ۳ : سورة الرعد : ۱۵