سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 823
۸۲۳ مادی اسباب قائم ہیں۔دوم یہ کہ تا لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو کہ جس طرح مختلف مقاصد میں کامیابی کے لئے بعض مادی اسباب مقرر ہیں اسی طرح خدا کی ازلی تقدیر نے ایک روحانی سبب بھی مقرر کر رکھا ہے اور یہ روحانی سبب دعا ہے جو ہمارے معاملات میں اسی طرح مؤثر ہے جس طرح کہ مادی اسباب مؤثر ہیں۔البتہ جس طرح قانون قدرت کے ماتحت ہر مادی سبب کے استعمال کا ایک طریق مقرر ہے اسی طرح روحانی سبب کے استعمال کا بھی ایک طریق مقرر ہے جسے اختیار کرنے کے بغیر وہ مؤثر نہیں ہوتا لیکن جب اس طریق کو اختیار کر لیا جائے تو یہ روحانی سبب مادی اسباب کی نسبت بھی زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے کیونکہ گو مادی اور روحانی اسباب ہر دو کی تہ میں خدا ہی کا ہاتھ ہے اور وہی ہر چیز کی علت العلل ہے مگر چونکہ روحانی سبب میں گویا خدا تعالیٰ سے براہ راست اپیل ہوتی ہے اس لئے اگر اس میں صحیح طریق کو اختیار کیا جائے تو وہ لاز م مادی اسباب کی نسبت بہت زیادہ قوی الاثر اور بہت زیادہ سریع الاثر اور بہت زیادہ وسیع الاثر ثابت ہوتا ہے۔خداد عاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے اس اصولی نوٹ کے بعد ہم مسئلہ دعا کے متعلق بعض قرآنی آیات اور احادیث اس جگہ درج کرتے ہیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اسلام اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے۔سوقرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دُخِرِيْنَ 1 یعنی ” تمہارا پروردگار تمہیں ہدایت فرماتا ہے کہ (جب بھی تمہیں کوئی ضرورت یا حاجت پیش آیا کرے ) تم مجھے پکارا کرو۔میں تمہاری پکار کوسنوں گا اور قبول کروں گا لیکن وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں (اور ان کی گردنیں مجھے پکارنے کے لئے نیچی نہیں ہوسکتیں ) وہ عنقریب ذلیل ورسوا ہو کر آگ کے عذاب میں داخل کئے جائیں گے۔“ پھر فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَانِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ : ل : سورۃ المومن : ۶۱ : سورة البقرة : ۱۸۷