سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 68 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 68

۶۸ ہوتے تھے اور وہ عورت جس شخص کے متعلق کہہ دیتی تھی کہ بچہ اس کا ہے، اسی کی طرف وہ منسوب ہوتا تھا۔مگر شرفاء کا دامن اس قسم کی بے حیائیوں سے پاک تھا۔لے یہ چند رسوم صرف مثال کے طور پر لکھی گئی ہیں ورنہ عرب میں رسوم کی بے حد کثرت تھی اور عجیب عجیب رسومات کا وجود پیدا ہو گیا تھا۔اسلام نے سب گندی رسوم کو یک قلم منسوخ کر دیا۔قدیم مذاہب عرب عرب میں اسلام سے پہلے مختلف مذاہب کے پیر و پائے جاتے تھے ، جن میں سے زیادہ ممتاز بت پرست ، دہریہ، مجوسی ، صابی ، عیسائی اور یہودی تھے۔ان مذاہب میں سب سے زیادہ عام اور سارے ملک میں پھیلا ہوا بُت پرستی کا مذہب تھا جسے گویا ملک کا اصل مذہب کہنا چاہیے۔بُت پرست اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بھی قائل تھے ، مگر اس تک پہنچنے کا وسیلہ بتوں کو سمجھتے تھے لیکن اس درمیانی واسطہ میں وہ ایسے الجھے ہوئے تھے کہ اصل معبود کا خیال دل سے نکل گیا تھا۔مشترک بتوں کے علاوہ عموماً ہر قبیلہ کا اپنا اپنا خاص بت بھی تھا۔چنانچہ مکہ میں اساف اور نائکہ قریش کے بت تھے، جن کے سامنے قربانیاں ذبح کی جاتی تھیں۔عزتی نخلہ میں قریش اور بنو کنانہ کا مشتر کہ بت تھا۔طائف میں لات بنو ثقیف کا بت تھا۔منات اوس اور خزرج کا بت تھا۔دومۃ الجندل میں ڈر بنو کلب کا بت تھا۔قبیلہ ھذیل کا بُت سواع تھا۔یغوث قبائل مذحج اور مکی کا بت تھا۔نسر ذوالکلاع کا بت تھا اور یعوق یمن میں ہمدان کا بت تھا وغیرہ وغیرہ۔سب سے بڑا بت قبل تھا جو کعبہ میں نصب تھا۔جنگ میں فتح کے موقع پر اسی کے نام کے نعرے لگتے تھے۔عرب کے بُت پرستوں کا مذہبی مرکز کعبہ تھا۔جہاں انہوں نے بہت سے بُت جمع کر رکھے تھے۔کے اور عرب کے مشرک لوگ ملک کے تمام حصوں سے ہر سال حج کے واسطے مکہ میں جمع ہوتے تھے۔یہ گویا ابرا ہیمی تعلیم کی ایک بقیہ نشانی تھی ، مگر مراسم حج میں بھی ان لوگوں نے کئی قسم کی مشر کا نہ باتیں شامل کر لی تھیں جو اسلام نے خارج کر دیں۔مکہ کی اس مذہبی خصوصیت کی وجہ سے مکہ اور اس کے ارد گرد کا علاقہ حرم کا علاقہ تھا جہاں ہر قسم کا کشت و خون سخت ممنوع تھا۔اسی طرح حج اور عمرہ کے لیے لوگوں کی آمد ورفت میں سہولت پیدا کرنے کی غرض سے سال میں چار مہینے یعنی محرم ، رجب، ذیقعدہ ، ذی الحجہ خاص عزت کے مہینے سمجھے جاتے تھے جن میں کشت و خون رک جاتا تھا اور لوگ امن کے ساتھ اِدھر اُدھر آ جا سکتے تھے۔بُت پرستی کے علاوہ عرب میں دہریت بھی تھی۔اس کے پیر وخدا کی ہستی ، بعث بعد الموت ، جزا سزا : بخاری کتاب النکاح : ابن ہشام : بخاری کتاب و جوب الحج