سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 814 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 814

۸۱۴ کرنے لگا ہوں تم نے اندر آنا ہو تو جلد آ جاؤ۔عبداللہ چادر میں لیٹے لیٹائے جلدی سے دروازہ کے اندر داخل ہو کر ایک طرف کو چھپ گئے اور دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ بند کر کے اور اس کی کنجی ایک قریب کی کھونٹی سے لٹکا کر چلا گیا۔اس کے بعد عبد اللہ بن عتیک کا اپنا بیان ہے کہ میں اپنی جگہ سے نکلا اور سب سے پہلے میں نے قلعہ کے دروازے کا قفل کھول دیا تا کہ ضرورت کے وقت جلدی اور آسانی کے ساتھ باہر نکلا جا سکے۔اس وقت ابورافع ایک چوبارے میں تھا اور اس کے پاس بہت سے لوگ مجلس جمائے بیٹھے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے اور خاموشی ہوگئی تو میں ابورافع کے مکان کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا اور میں نے یہ احتیاط کی کہ جو دروازہ میرے راستہ میں آتا تھا اسے میں آگے گزر کر اندر سے بند کر لیتا تھا۔جب میں ابورافع کے کمرے میں پہنچا تو اس وقت وہ چراغ بجھا کر سونے کی تیاری میں تھا اور کمرہ بالکل تاریک تھا۔میں نے آواز دے کر ابو رافع کو پکارا۔جس کے جواب میں اس نے کہا۔کون ہے؟ بس میں اس آواز کی سمت کا اندازہ کر کے اس کی طرف لپکا اور تلوار کا ایک زور دار دار کیا مگر اندھیرا بہت تھا اور میں اس وقت گھبرایا ہوا تھا اس لئے تلوار کا وار غلط پڑا اور ابورافع چیخ مار کر چلا یا جس پر میں کمرہ سے باہر نکل گیا۔تھوڑی دیر بعد میں نے پھر کمرہ کے اندر جا کر اپنی آواز کو بدلتے ہوئے چھا۔ابو رافع یہ شور کیسا ہوا تھا ؟ اس نے میری بدلی ہوئی آواز کو نہ پہچانا اور کہا۔تیری ماں تجھے کھوئے مجھ پر ابھی ابھی کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے۔میں یہ آواز سن کر پھر اس کی طرف لپکا اور تلوار کا وار کیا۔اس دفعہ وار کاری پڑا مگر وہ مرا پھر بھی نہیں جس پر میں نے اس پر ایک تیسرا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔اس کے بعد میں جلدی جلدی دروازے کھولتا ہوا مکان سے باہر نکل آیا، لیکن جب میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تو ابھی چند قدم باقی تھے کہ میں سمجھا کہ میں سب قدم اتر آیا ہوں جس پر میں اندھیرے میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی (اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پنڈلی کا جوڑ اتر گیا مگر میں اسے اپنی پگڑی سے باندھ کر گھسٹتا ہوا باہر نکل گیا لیکن میں نے اپنے جی میں کہا کہ جب تک ابو رافع کے مرنے کا اطمینان نہ ہو جائے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا چنانچہ میں قلعہ کے پاس ہی ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جب صبح ہوئی تو قلعہ کے اندر