سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 813
۸۱۳ مگرا بورافع نے اسی پر بس نہیں کی۔اس کی عداوت کی آگ مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اس کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا تھا۔چنانچہ بالآخر اس نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنگ احزاب کی طرح نجد کے قبائل غطفان اور دوسرے قبیلوں کا پھر ایک دورہ کرنا شروع کیا اور انہیں مسلمانوں کے تباہ کرنے کے لئے ایک لشکر عظیم کی صورت میں جمع کرنا شروع کر دیا۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی احزاب والے منظر پھرنے لگ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ خزرج کے بعض انصاری حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اب اس فتنہ کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کسی طرح اس فتنہ کے بانی مبانی ابورافع کا خاتمہ کر دیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سوچتے ہوئے کہ ملک میں وسیع کشت وخون کی بجائے ایک مفسد اور فتنہ انگیز آدمی کا مارا جانا بہت بہتر ہے ان صحابیوں کو اجازت مرحمت فرمائی اور عبداللہ بن عتیک انصاری کی سرداری میں چار خزرجی صحابیوں کو ابو رافع کی طرف روانہ فرمایا مگر چلتے ہوئے تاکید فرمائی کہ دیکھنا کسی عورت یا بچے کو ہر گز قتل نہ کرنا ہے چنانچہ ۶ ھ کے ماہ رمضان میں یہ پارٹی روانہ ہوئی اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام کر کے واپس آگئی۔اور اس طرح اس مصیبت کے بادل مدینہ کی فضا سے ٹل گئے۔اس واقعہ کی تفصیل بخاری میں جس کی روایت اس معاملہ میں صحیح ترین روایت ہے مندرجہ ذیل صورت میں بیان ہوئی ہے۔براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک پارٹی ابورافع یہودی کی طرف روانہ فرمائی اور ان پر عبداللہ بن عتیک انصاری کو امیر مقررفرمایا۔ابورافع کا یہ قصہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت دکھ دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کو ابھارتا تھا اور ان کی مدد کیا کرتا تھا۔جب عبداللہ بن عتیک اور ان کے ساتھی ابو رافع کے قلعہ کے قریب پہنچے اور سورج غروب ہو گیا تو عبداللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور خود قلعہ کے دروازے کے پاس پہنچے اور اس کے قریب اس طرح چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے جیسے کوئی شخص کسی حاجت کے لئے بیٹھا ہو۔جب قلعہ کا دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ پر آیا تو اس نے عبداللہ کی طرف دیکھ کر آواز دی کہ اے شخص میں قلعہ کا دروازہ بند : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۶۶ موطا كتاب الجهاد : ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۱۶۲ ابن ہشام ه : ابن سعد