سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 67 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 67

کا دستور تھا۔۶۷ ایک عجیب رسم عرب کے بعض قبائل میں یہ تھی کہ جب کسی سفر کے ارادے سے گھر سے نکلتے تھے تو اگر راستہ میں کسی وجہ سے واپس آنا پڑتا تھا ، تو دروازوں کے ذریعہ اندر نہ داخل ہوتے تھے بلکہ پشت کی طرف سے آتے تھے۔قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ آتا ہے۔بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کی قبر کے پاس اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے حتی کہ وہ بھوک پیاس سے مرجاتا تھا۔عورتوں میں سخت نوحہ کرنے کی عادت تھی۔سال سال تک ما تم چلا جاتا تھا۔عرب میں بالعموم عورتیں جانوروں کا دودھ نہ دوہتی تھیں اور اسے عورت کے لیے ایک عیب سمجھا جاتا تھا۔اگر کسی خاندان میں کوئی عورت ایسا کرتی دیکھی جاتی تھی تو وہ خاندان دوسروں کی نظروں میں گر جاتا تھا۔جانوروں کو بتوں وغیرہ کے نام پر یا کسی نذر وغیرہ کے نتیجہ میں آزاد چھوڑ دینے کی بھی رسم تھی اور اس تعلق میں چار قسم کے جانور زیادہ معروف تھے۔اوّل سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے تھے جس نے پے در پے دس مادہ بچے جنے ہوں ایسی اونٹنی پر سواری ترک کر دی جاتی تھی اور اس کا دودھ بھی سوائے مہمانوں کے استعمال کے حرام سمجھا جاتا تھا اور اس کی اون بھی نہیں کائی جاتی تھی۔دوسرے بحیرہ جو سائبہ اونٹنی کے گیارھویں مادہ بچہ کو کہتے تھے۔بحیرہ کو اس کے کان درمیان میں کاٹ کر اس کی ماں کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔تیسرے حام : ایسے اونٹ کا نام رکھا جاتا تھا جو اوپر تلے دس بچوں کا باپ ہو ، اسے سانڈ کے طور پر کھلا چھوڑ دیا جاتا تھا۔چوتھے وصیلہ: ایسی بکری کو کہتے تھے جو پانچ جھولوں میں مسلسل دس مادہ بچے جنتی تھی۔ایسی بکری کی بعد کی اولاد کا گوشت صرف مرد کھاتے تھے عورتوں کے لیے حرام تھا۔البتہ اگران میں سے کوئی بچہ مرجاتا تھا تو اس کا گوشت عورتیں بھی کھا سکتی تھیں۔قرآن شریف میں بھی ان جانوروں کا ذکر آتا ہے۔نکاح کے متعلق بھی عجیب عجیب رسوم رائج تھیں۔عموماً نکاح کی صورتیں چار تھیں جن میں سب سے عجیب اور سب سے گندی صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے پاس یکلخت چند آدمی پہنچ جاتے تھے اور وہاں یکے بعد دیگرے اپنا منہ کالا کرتے تھے اور جب وہ کوئی بچہ جنتی تھی تو پھر یہ لوگ دوبارہ اس کے پاس جمع ل : سورة البقرة : ١٩٠ سیرت ابن ہشام وسورة انعام : سورۃ مائده آیت : ۱۰۴