سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 803
۸۰۳ میں سب سے اہم اور سب سے وقیع تر عبادت ہے ) تو اس وقت اپنا امام بنانے کے لئے صرف یہ دیکھا کرو کہ تم میں سے قرآن کا علم کس شخص کو زیادہ حاصل ہے۔پس جو شخص بھی قرآنی علم میں زیادہ ہوا سے نماز میں اپنا امام بنالیا کرو اور اگر چند آدمی علم قرآن میں برابر ہوں تو پھر ان میں سے جو شخص سنت رسول کے علم میں زیادہ ہوا سے امام بنایا کرو اور اگر چند آدمی سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو پھر ان میں سے جس شخص نے خدا کی راہ میں پہلے ہجرت کی ہوا سے امام بنایا کرو اور اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو پھر جو شخص عمر میں زیادہ ہوا سے اپنا امام بنالیا کرو اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ نمازوں میں مسلمانوں کا امام ہر وہ شخص ہوسکتا ہے جو ان میں سے ہے اور کسی خاص طبقہ کی تخصیص نہیں مگر امامت کا زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو دین کا زیادہ علم رکھتا ہے۔“ الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و دنیا کے ہر میدان میں حقیقی مساوات قائم فرمائی ہے اور سوسائٹی کی ہر نا واجب کش مکش کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا ہے اور جسم اور روح دونوں کی اصلاح کی ہے اور یہ وہ مساوات ہے جس کی نظیر یقیناً کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتی۔اَللَّهُمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلّم - مساوات اسلامی کے متعلق یہ نوٹ سپرد قلم کرنے کے بعد ہم پھر اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔سریہ دومتہ الجندل شعبان ۶ ہجری مطابق دسمبر ۶۲۷ء اب بڑی سرعت کے ساتھ اسلامی اثر کا دائرہ وسیع ہورہا تھا اور عرب کے دور دراز کناروں میں بھی اسلام کی تبلیغ پہنچ رہی تھی۔مگر اس کے ساتھ دور کے علاقوں میں مخالفت بھی بڑھ رہی تھی اور جو لوگ اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے انہیں اپنے ہم قبیلہ لوگوں کی طرف سے سخت مظالم سہنے پڑتے تھے اور ان مظالم سے ڈر کر بہت سے کمزور طبع لوگ اسلام کے اظہار سے رکے رہتے تھے۔اس لئے اب جنگی مہموں کی اغراض میں اس غرض کا اضافہ ہو گیا کہ ایسے قبائل کی طرف فوجی دستے روانہ کئے جائیں جن میں بعض لوگ دل میں اسلام کی طرف مائل تھے مگر مظالم کے ڈر کی وجہ سے وہ اسلام کو قبول کرنے سے رکھتے تھے۔گویا ان دستوں کے بھیجوانے کی غرض مذہبی آزادی کا قیام تھی جس پر اسلام خاص طور پر زور دیتا ہے۔ا : سورۃ الانفال : ۴۰